تہران، 18 جون (یو این آئی) ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کر دی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کا حتمی متن طے پاگیا ہے اور دونوں فریقین نے الیکٹرانک دستخط کر دیے ہیں۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے متن پر ایران اور امریکہ کے صدور نے دستخط کیے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی ملاقات معاہدے پر دستخط کے لیے نہیں، سوئٹزرلینڈ میں ملاقات ہوگی یا نہیں، اگلے چند گھنٹوں میں فیصلہ متوقع ہے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جمعے کو ہونے والی ملاقات کچھ گھنٹے پہلے تک طے تھی، لیکن جب یہ فیصلہ ہوا کہ دونوں صدور دستخط کریں گےتو جمعہ کی ملاقات روکنےکا فیصلہ کیا۔ جنیوا میں مذاکراتی ٹیموں کی شرکت بدستور شیڈول کے مطابق رہے گی۔ اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کیلئے فوری مذاکرات شروع کیے جائیں گے۔
اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری رہے تو یہ معاہدے کی خلاف ورزی تصورہوگی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے بدلے فیس وصول کی جائے گی، ہمارے پاس افزودہ یورینیم کو کم درجے پر لانے کا آپشن موجود ہے۔ اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کے میزائل پروگرام پر مذاکرات نہیں کیے جا سکتے، ایرانی جوہری مواد ملک سے باہر نہیں بھیجا جائے گا۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ 60 دنوں میں دوسرے فریق کو خطے میں فوجی موجودگی میں اضافہ نہیں کرنا چاہیے، نہ ہی دوسرے فریق کو نئی پابندیاں عائد کرنی چاہئی۔
انہوں نے کہا کہ امریکا پابند ہے کہ ایران کے منجمد اثاثوں تک رسائی کے سلسلے میں رکاوٹیں دور کرے، ایران کے میزائلوں کے بارے میں کوئی دوسرا گفتگو کرے یہ بالکل پسند نہیں، ایران کی دفاعی صلاحیتوں پر کسی بھی فریق کے ساتھ بات چیت نہیں کی جائے گی۔







