نئی دہلی، 16 جون (یواین آئی) کانگریس نے ایودھیا میں رام مندر کے چندے میں مبینہ گھوٹالے کی موجودہ ہائی کورٹ کے جج کی نگرانی میں مقررہ مدت کے اندر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ایودھیا میں زمین، تعمیرات اور چندے سے متعلق تمام مبینہ گھوٹالوں کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی ذمہ دار ہیں۔
اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے اور پارٹی رہنما آرادھنا مشرا نے منگل کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ایودھیا میں ابتدا ہی سے بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کے معاملات سامنے آتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلے زمین کے سودوں پر تنازعات ہوئے، پھر مندر کی تعمیر پر سوالات اٹھے اور اب چندے میں مبینہ گھوٹالے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس سے عوام کے مذہبی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے عوام کے عقیدے کے ساتھ دھوکہ کیا ہے اور مذہب کے نام پر سودے بازی کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شری رام جنم بھومی سے متعلق سامنے آنے والی معلومات ظاہر کرتی ہیں کہ ایک منظم لوٹ مار ہوئی ہے، جس میں بااثر افراد شامل ہیں، اور اس جانب اشارہ بی جے پی کے سابق رکنِ پارلیمنٹ بھی کر رہے ہیں۔
کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ کا صدر سابق بیوروکریٹ نریپیندر مشرا کو بنایا گیا، جو پانچ سال تین ماہ تک وزیر اعظم مودی کے پرنسپل سیکریٹری رہے تھے۔ ٹرسٹ میں آر ایس ایس پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کو اہم ذمہ داریاں دی گئیں، جن میں چمپت رائے اور انیل مشرا بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرسٹ سے وابستہ بعض افراد پہلے بھی تنازعات میں رہے ہیں اور اس پورے معاملے کی جوابدہی وزیر اعظم پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کا قیام دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ معاملے میں سنگین بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ کانگریس رہنماؤں نے الزام لگایا کہ پہلے ’’شلا پوجن‘‘ کے نام پر بڑے پیمانے پر رقم جمع کی گئی، لیکن اس کا کوئی عوامی حساب کتاب پیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 1400 کروڑ روپے سے زائد رقم کے غلط استعمال کے الزامات ہیں اور وشو ہندو پریشد کے سابق صدر آنجہانی اشوک سنگھل کے دور میں جمع کی گئی رقم کا حساب بھی سامنے آنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ افراد نے عوام کے عقیدے اور بھگوان کے نام پر دی گئی رقوم کا غلط استعمال کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایودھیا میں منظم انداز میں لوٹ مار ہوئی ہے اور اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔










