’یقینی بنایا جائے کہ اگر ہوائی اڈہ عارضی طور پر بند بھی ہو جائے تو کشمیر کا فضائی رابطہ برقرار رہے‘
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۱۲جون
وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے جمعہ کے روز کہا کہ انہوں نے مرکزی وزیر شہری ہوا بازی رام موہن نائیڈو سے ملاقات کر کے اکتوبر میں سرینگر بین الاقوامی ہوائی اڈے کی مجوزہ بندش اور فضائی سفر میں ممکنہ رکاوٹوں کو کم کرنے کے لیے متبادل انتظامات پر تبادلہ خیال کیا۔
سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ ملاقات اس معاملے پر وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ساتھ حالیہ گفتگو کے تسلسل میں ہوئی۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ صاحب سے ملاقات کے بعد میں نے وزیر شہری ہوا بازی رام موہن نائیڈو سے ملاقات کی تاکہ اکتوبر میں سرینگر ہوائی اڈے کی مجوزہ بندش پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں کہ اگر ہوائی اڈہ عارضی طور پر بند بھی ہو جائے تو کشمیر کا فضائی رابطہ برقرار رہے۔
عمرعبداللہ نے کہا، ’’ہم ممکنہ متبادل انتظامات پر کام کر رہے ہیں تاکہ خلل کو کم سے کم رکھا جا سکے اور پروازوں کا بنیادی شیڈول برقرار رہے، جیسا کہ۱۹۹۸؍اور۲۰۱۰ میں اسی نوعیت کی بندش کے دوران کیا گیا تھا۔‘‘
سرینگر ہوائی اڈے کی مجوزہ بندش نے مسافروں، سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد اور کاروباری حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ یہ بندش وادی میں آنے اور جانے والے مسافروں کی بڑی تعداد کے دوران متوقع ہے۔
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کے روز وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور مرکزی وزیر شہری ہوا بازی کے رام موہن نائیڈو سے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور جنوبی کشمیر کے اونتی پورہ میں واقع اسٹریٹجک بھارتی فضائیہ کے ہوائی اڈے کو اکتوبر کے دوران شہری پروازوں کے لیے کھولنے کی تجویز پیش کی۔
یہ ملاقاتیں یکم اکتوبر سے۱۵؍اکتوبر تک سرینگر ہوائی اڈے کی طے شدہ بندش کے پس منظر میں ہوئیں۔ حکام کے مطابق وزیر اعلیٰ نے دونوں مرکزی وزراء کے سامنے رن وے کی مرمت کے لیے مجوزہ بندش پر تشویش کا اظہار کیا۔
ملاقاتوں کے دوران عمر عبداللہ نے نشاندہی کی کہ اس عرصے میں مغربی بنگال، گجرات اور مہاراشٹر سے بڑی تعداد میں سیاح کشمیر کا رخ کرتے ہیں۔ اس موسم کو ’’گولڈن کشمیر‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے کیونکہ اس دوران وادی کے مشہور چنار کے درختوں کے پتے سنہری زرد رنگ اختیار کر لیتے ہیں، جو سیاحوں کے لیے خاص کشش کا باعث بنتے ہیں۔










