’ہمارا مقصد روحانی طور پر اطمینان بخش یاترا کو یقینی بنانا ہے‘
سرینگر؍۱۰جون
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کے روز آئندہ شری امرناتھ جی یاتراکی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔
سنہا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ اجلاس کے دوران تمام متعلقہ محکموں اور سیکورٹی ایجنسیوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ یاترا کیلئے بنیادی ڈھانچے، سیکورٹی، صحت، صفائی، رابطہ سہولیات اور یاتری خدمات سمیت تمام انتظامات بروقت مکمل کریں۔
ایل جی نے کہا’’ہمارا مشترکہ مقصد بابا برفانی کے ہر عقیدت مند کیلئےایک محفوظ، سہل اور روحانی طور پر اطمینان بخش یاترا کو یقینی بنانا ہے‘‘۔
حکام کے مطابق سالانہ یاترا کے پُرامن اور منظم انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے جموں، اننت ناگ اور گاندربل اضلاع میں ضلعی اور بیس کیمپ سطح پر متعدد تیاری اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں۔
واضح رہے کہ شری امرناتھ یاترا۲۰۲۶ کا آغاز۳ جولائی کو ہوگا اور یہ۲۸؍ اگست کو اختتام پذیر ہوگی۔
اس دوران سالانہ شری امرناتھ جی یاترا۲۰۲۶کے۳جولائی سے آغاز سے قبل سنٹرل ریزرو پولیس فورس(سی آر پی ایف) نے جموں و کشمیر میں اپنے سکیورٹی انتظامات میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے حساس پہاڑی علاقوں میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کو تیز اور میدانی علاقوں میں نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔
۵۷ روزہ یاترا۳؍ جولائی سے شروع ہو کر۲۸ اگست کو اختتام پذیر ہوگی۔ حکام کے مطابق یاترا کے دوران متوقع بڑی تعداد میں زائرین کی آمد کے پیش نظر موجودہ سکیورٹی گرڈ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے یہ اقدامات کیے گئے ہیں۔
سکیورٹی انتظامات میں اضافے کا فیصلہ سی آر پی ایف کے ڈائریکٹر جنرل جی پی سنگھ کی ہدایت پر کیا گیا، جو اس وقت وادی کشمیر کے تین روزہ دورے پر ہیں۔
اپنے دورے کے پہلے دن انہوں نے سری نگر میں اعلیٰ سطحی سکیورٹی جائزہ اجلاس کی صدارت کی، جس میں سینئر سی آر پی ایف افسران اور فیلڈ کمانڈرز نے شرکت کی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں یاترا روٹس پر سکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے اور انسدادِ دہشت گردی تیاریوں کو مضبوط کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی۔
ایک عہدیدار نے بتایا’’اجلاس کا بنیادی مقصد یاترا کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور شری امرناتھ جی یاترا۲۰۲۶ کو محفوظ اور حادثات سے پاک بنانے کے لیے سکیورٹی گرڈ کو مزید مستحکم کرنا تھا‘‘۔
سی آر پی ایف کمانڈرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بلند پہاڑی سلسلوں اور حساس مقامات پر انسدادِ دہشت گردی آپریشنز میں اضافہ کریں جبکہ میدانی علاقوں میں چوبیس گھنٹے سخت نگرانی برقرار رکھی جائے۔
حکام کے مطابق یہ اقدام امرناتھ یاترا سے قبل اختیار کیے جانے والے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر کا حصہ ہے، کیونکہ ہر سال ہزاروں عقیدت مند پہلگام اور بال تل کے دو روایتی راستوں سے مقدس غار کا سفر کرتے ہیں۔
سکیورٹی وجوہات کی بنا پر حکومت پہلے ہی یکم جولائی سے یاترا کے اختتام تک امرناتھ یاترا کے تمام راستوں، بشمول پہلگام اور بال تل روٹس، کو ’نو فلائنگ زون‘ قرار دے چکی ہے۔
اس فیصلے کے نتیجے میں یاترا کے دوران ہیلی کاپٹر سروس دستیاب نہیں ہوگی۔
حکام نے یاتریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مقدس غار تک پہنچنے کے لیے پیدل سفر کریں یا گھوڑوں اور پالکیوں کی خدمات حاصل کریں۔
شری امرناتھ جی شرائن بورڈ کے زیر انتظام منعقد ہونے والی یہ سالانہ یاترا کشمیر ہمالیہ میں واقع مقدس برفانی شِو لنگم کے درشن کے لیے منعقد کی جاتی ہے، جس میں ہر سال ملک بھر سے ہزاروں عقیدت مند شرکت کرتے ہیں۔
اس دوران آئندہ شری امرناتھ جی یاترا کے پیش نظر ڈی آئی جی جنوبی کشمیر رینج جاوید اقبال مٹو نے پہلگام میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں یاترا کے سیکورٹی انتظامات اور مختلف اداروں کے درمیان تال میل کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں ڈی آئی جی سی آر پی ایف، کمانڈر ون سیکٹر راشٹریہ رائفلز، ایس ایس پی اننت ناگ، اے ایس پی نارتھ کیمپ عشمقام اور پولیس، سی اے پی ایف سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران یاترا کے پُرامن اور محفوظ انعقاد کے لیے سیکورٹی منصوبہ بندی، ٹریفک مینجمنٹ، ہنگامی ردعمل، مواصلاتی نظام اور یاتریوں کی سہولت و حفاظت سے متعلق انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ڈی آئی جی جنوبی کشمیر نے تمام افسران کو ہدایت دی کہ یاترا روٹ پر سیکورٹی اقدامات کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جائے اور مکمل چوکسی برقرار رکھی جائے۔ انہوں نے بین الادارہ تعاون، فعال پولیسنگ اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں شریک افسران نے اپنی اپنی حدود میں کیے گئے انتظامات سے آگاہ کرتے ہوئے یاترا کے کامیاب انعقاد کے لیے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
ڈی آئی جی جاوید اقبال مٹو نے اب تک کی گئی تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تمام اداروں پر زور دیا کہ وہ باہمی اشتراک سے عقیدت مندوں کے لیے محفوظ اور سہل یاترا کو یقینی بنائیں۔










