ویب ڈیسک
سرینگر؍۱۰جون
بارہمولہ پولیس نے منشیات اور نفسیاتی اثرات رکھنے والے مادوں سے متعلق قانون(این ڈی پی ایس ایکٹ) کے ایک مقدمے میں مبینہ ملوثیت سامنے آنے کے بعد ایک اسپیشل پولیس آفیسر(ایس پی او ) کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق برطرف کیے گئے ایس پی او کی شناخت خالد نذیر خان ساکن کٹی پورہ، ٹنگمرگ کے طور پر ہوئی ہے۔
پولیس کے مطابق یہ کارروائی۲۳؍اپریل۲۰۲۶ کو پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد عمل میں لائی گئی، جب پولیس اسٹیشن کنزر کی جانب سے وسن کراسنگ پر ناکہ چیکنگ کے دوران ایک آلٹو گاڑی کو روک کر تلاشی لی گئی۔
تلاشی کے دوران گاڑی میں سوار افراد، جن میں مذکورہ ایس پی او بھی شامل تھا، کے قبضے سے سرنجیں اور سوئیاں برآمد ہوئیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی سے سلور فوائل پیپر بھی ضبط کیا گیا، جو عام طور پر نشہ آور اشیا کے استعمال میں استعمال ہوتا ہے۔
واقعے کے بعد پولیس اسٹیشن کنزر میں ایک ایف آئی آر درج کی گئی، جس میں این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات شامل ہیں، اور معاملے کی تحقیقات شروع کی گئیں۔
پولیس کے ترجمان نے کہا کہ’’معاملے کی سنگین نوعیت اور ایک نظم و ضبط رکھنے والی فورس کے رکن کے شایانِ شان نہ ہونے والے طرزِ عمل کو مدنظر رکھتے ہوئے مذکورہ ایس پی او کو فوری اثر سے سروس سے الگ کر دیا گیا ہے‘‘۔
پولیس کے مطابق مقدمے کی مزید تحقیقات جاری ہے۔
اس دوران منشیات کی اسمگلنگ اور اس کاروبار سے وابستہ غیر قانونی اثاثوں کے خلاف جاری مہم کے تحت حکام نے بدھ کے روز جموں میں دو مبینہ منشیات فروشوں کے رہائشی مکانات منہدم کر دیے۔
سرکاری حکام کے مطابق بشنہ علاقے کے چک وزیرو میں واقع فلا گجر اور بشیر احمد کے مکانات قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد سخت سکیورٹی انتظامات کے درمیان منہدم کیے گئے۔
کارروائی کے دوران سینئر سول اور پولیس افسران بھی موقع پر موجود تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان منشیات فروشی سے متعلق متعدد مقدمات میں ملوث رہے ہیں۔
اس سے قبل پولیس نے فلا گجر کے بھائی لاؤ گجر کا مکان بھی منہدم کیا تھا، جسے رواں سال مختلف مجرمانہ مقدمات میں گرفتار کیا گیا تھا۔
حکام کے مطابق یہ کارروائی منشیات کے بڑھتے ہوئے خطرے پر قابو پانے، جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو توڑنے اور معاشرے کو نشہ آور اشیا کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے چلائی جا رہی وسیع تر مہم کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ منشیات کے کاروبار میں ملوث عناصر اور ان کی غیر قانونی جائیدادوں کے خلاف آئندہ بھی سخت کارروائیاں جاری رہیں گی










