پاکستان نے ایک بار پھر اپنے سیاسی مفادات کیلئےاقوامِ متحدہ کے باوقار فورم کے غلط استعمال کی روایت برقرار رکھی ہے:ہریش
ویب ڈیسک
سرینگر؍۶جون
بھارت نے اقوامِ متحدہ میں جموں و کشمیر کا حوالہ دینے پر پاکستان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کی رکنیت ایک بڑی ذمہ داری ہے، نہ کہ ’’جانبدارانہ اور جھوٹے بیانیے‘‘ پھیلانے کا پلیٹ فارم۔
اقوامِ متحدہ میں بھارت کے مستقل نمائندے سفیر پروتھنی ہریش نے جمعہ کے روز کہا:’’پاکستان کی جانب سے بھارت کے ایک مکمل داخلی معاملے، یعنی جموں و کشمیر کے مرکزی زیر انتظام علاقے، کا بلاجواز ذکر کرنے نے مجھے جواب دینے پر مجبور کر دیا ہے۔‘‘
ہریش کا یہ سخت ردعمل اس وقت سامنے آیا جب اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کی سالانہ رپورٹ پر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے جموں و کشمیر کا معاملہ اٹھایا۔
پاکستان، جو مختلف اقوامِ متحدہ کے فورمز پر مسلسل جموں و کشمیر اور بھارت کے دیگر داخلی معاملات کو اٹھاتا رہا ہے، اس وقت سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن ہے اور اس کی مدتِ رکنیت رواں سال ختم ہو رہی ہے۔
جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھارتی سفیر نے کہا کہ پاکستان نے ایک بار پھر اپنے سیاسی مفادات کے لیے اقوامِ متحدہ کے باوقار فورم کے غلط استعمال کی روایت برقرار رکھی ہے۔
انہوں نے کہا’’سلامتی کونسل میں اپنی موجودگی کا پاکستان کی جانب سے غلط استعمال، جس میں گمراہ کن اور حقائق سے عاری دستاویزات کی گردش بھی شامل ہے، اسی غیر تعمیری طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے۔ میں پاکستان کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی رکنیت ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ یہ جانبدارانہ اور جھوٹے بیانیے پھیلانے کا فورم نہیں ہے۔‘‘
بھارتی سفیر نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔انہوں نے کہا’’اس کے برعکس کسی بھی قسم کے دعوے بے بنیاد ہیں، تاریخی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے اور حقیقت سے عاری ہیں۔ پاکستان کی کھوکھلی بیان بازی اور بے معنی دعوے اس بنیادی حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ اقوامِ متحدہ کے دیگر اراکین کے وقت کا احترام کرتے ہوئے میں اس موضوع پر مزید بات نہیں کروں گا۔‘‘
ہریش نے اس موقع پر سلامتی کونسل میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ عالمی برادری اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ سلامتی کونسل کو موجودہ اور مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے زیادہ مؤثر اور موزوں بنانے کی ضرورت ہے۔
سفیر نے کہا’’سلامتی کونسل کا موجودہ ڈھانچہ۱۹۴۵کی جغرافیائی سیاسی حقیقتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ موجودہ نظام کو برقرار رکھنے سے نہ ماضی میں سلامتی کونسل مؤثر انداز میں کام کر سکی ہے اور نہ ہی مستقبل میں کر سکے گی۔‘‘انہوں نے نشاندہی کی کہ۱۹۶۰کی دہائی میں صرف غیر مستقل اراکین کی تعداد بڑھانے کی محدود اصلاحات سے سلامتی کونسل کے بنیادی طریقۂ کار میں کوئی مؤثر تبدیلی نہیں آئی۔
ان کے مطابق:’’حقیقی اور بامعنی اصلاحات کے لیے مستقل اور غیر مستقل دونوں زمروں میں توسیع ناگزیر ہے۔‘‘
بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان پر مشتمل جی۴ممالک نے تجویز دی ہے کہ سلامتی کونسل کی رکنیت موجودہ۱۵سے بڑھا کر۲۵یا۲۶کی جائے اور اصلاح شدہ کونسل میں۱۱مستقل جبکہ۱۴یا۱۵غیر مستقل ارکان شامل ہوں۔
فی الحال سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اور ویٹو اختیار رکھنے والے ارکان چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکہ ہیں۔باقی دس ارکان دو سالہ مدت کے لیے غیر مستقل ارکان کی حیثیت سے منتخب کیے جاتے ہیں۔ بھارت آخری مرتبہ۲۰۲۱۔۲۲کے دوران سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن رہا تھا۔










