شوپیان میں منشیات کی کمائی سے حاصل کی گئی رہائشی جائیداد ضبط
ایجنسیز
سرینگر؍۶جون
پولیس نے ہفتے کے روز بتایا کہ سرینگر میں دو مبینہ منشیات فروشوں کی تقریباً۳ء۵کروڑ روپے مالیت کی جائیدادیں ضبط کر لی گئی ہیں۔
پولیس کے ایک ترجمان کے مطابق یہ کارروائی منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جاری مہم اور ’’نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان‘‘ کے تحت منشیات کی تجارت سے حاصل ہونے والے مبینہ اثاثوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
پہلے معاملے میں نگین پولیس اسٹیشن نے این ڈی پی ایس ایکٹ کی متعلقہ دفعہ کے تحت تقریباً۱ء۳۰کروڑ روپے مالیت کی غیر منقولہ جائیداد ضبط کی۔
ترجمان نے بتایا کہ ضبط شدہ جائیداد میں حضرت بل کے حبک کراسنگ علاقے میں واقع ایک دو منزلہ رہائشی مکان اور اس سے منسلک زمین شامل ہے، جو راحل منظور ملا کی ملکیت ہے۔
ایک علیحدہ کارروائی میں صورہ پولیس اسٹیشن نے این ڈی پی ایس ایکٹ کی متعلقہ دفعہ کے تحت تقریباً۲ء۲۰ کروڑ روپے مالیت کا ایک رہائشی مکان ضبط کیا، جو اپر صورہ کے کیل خان گلی کے رہائشی عادل رشید گڈو کی ملکیت ہے، جس پر منشیات کی غیر قانونی تجارت میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران دونوں جائیدادوں کی نشاندہی ایسے اثاثوں کے طور پر کی گئی جو مبینہ طور پر منشیات کی اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی سے بنائے گئے تھے۔ بعد ازاں این ڈی پی ایس ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت ان جائیدادوں کو باضابطہ طور پر ضبط کر لیا گیا۔
پولیس نے کہا کہ ضبطی کے احکامات کے تحت مالکان کو مزید قانونی کارروائی مکمل ہونے تک ان جائیدادوں کو فروخت کرنے، منتقل کرنے، لیز پر دینے، کسی اور کے نام کرنے، ان میں تبدیلی کرنے یا کسی تیسرے فریق کا مفاد پیدا کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
دریں اثنا منشیات سے متعلق سرگرمیوں کے خلاف جاری مہم کے تحت جموں و کشمیر پولیس نے ضلع شوپیان میں ایک رہائشی مکان ضبط کر لیا ہے جو مبینہ طور پر منشیات کی غیر قانونی تجارت سے حاصل شدہ آمدنی سے تعمیر کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق ضبط شدہ مکان کی مالیت۱۸ لاکھ۵۱ ہزار۴۰۲ روپے ہے اور یہ محمد اشرف آلائی ولد غلام رسول آلائی، ساکن ملہورہ زینہ پورہ کی ملکیت ہے۔
پولیس نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران یہ جائیداد منشیات اور نشہ آور اشیاء کی غیر قانونی خرید و فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے بنائی گئی پائی گئی۔ اس کے بعد پولیس اسٹیشن زینہ پورہ میں درج ایک ایف آئی آر کے سلسلے میں مذکورہ جائیداد کو ضبط کر لیا گیا۔
ضبطی کی کارروائی ایک مجاز پولیس ٹیم، ایگزیکٹو مجسٹریٹ، لمبردار اور چوکیدار کی موجودگی میں انجام دی گئی تاکہ تمام قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
جموں و کشمیر پولیس نے منشیات کی لعنت کے خاتمے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ نہ صرف منشیات فروشوں بلکہ ان کی غیر قانونی سرگرمیوں سے حاصل شدہ مالی اثاثوں کے خلاف بھی سخت کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر ان کے پاس منشیات کی اسمگلنگ یا اس سے متعلق کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کے بارے میں معلومات ہوں تو وہ فوری طور پر پولیس کو مطلع کریں تاکہ معاشرے کو منشیات سے پاک بنانے کی کوششوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔










