ایجنسیز
سرینگر؍۶ جون
جموں و کشمیر حکومت نے ٹیچرز ایلیجیبلیٹی ٹیسٹ(ٹی ای ٹی) کے انعقاد سے متعلق سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست (ریویو پٹیشن) دائر کر دی ہے۔ یہ بات وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے ہفتے کے روز بتائی۔
سکینہ ایتو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’جیسا کہ وعدہ کیا گیا تھا، معزز سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ حکومت مسلسل اس معاملے کی پیروی کرتی رہی ہے اور اساتذہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔‘‘
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے گزشتہ سال جاری کردہ حکم کے مطابق پرائمری اور اپر پرائمری سطح کے تمام حاضر سروس اساتذہ کے لیے ٹی ای ٹی امتحان لازمی قرار دیا گیا تھا اور انہیں اپنی ملازمت برقرار رکھنے کے لیے دو برس کے اندر یہ امتحان کامیابی سے پاس کرنا ضروری ہے۔
اس سے قبل۳۰مئی کو بھی وزیر تعلیم نے کہا تھا کہ جموں و کشمیر حکومت ٹی ای ٹی معاملے میں ہمیشہ ذمہ داری اور سنجیدگی کے ساتھ کام کرتی رہی ہے اور اساتذہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایتو نے کہا تھا، ’’ہم نے اس معاملے کو مسلسل اٹھایا ہے اور صرف بات چیت تک محدود نہیں رہے بلکہ عملی اقدامات بھی کیے ہیں۔ ماضی میں بھی ہم نے اساتذہ کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے مؤثر کارروائیاں انجام دی ہیں۔‘‘
وزیر تعلیم نے مزید بتایا تھا کہ حکومت پہلے ہی نظرثانی درخواست دائر کرنے کی منظوری دے چکی ہے، جبکہ محکمہ قانون، انصاف اور پارلیمانی امور نے اپنے اسٹینڈنگ کونسل کو ضروری قانونی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت جاری کر دی تھی۔
دریں اثنا، رواں سال فروری میں محکمہ اسکولی تعلیم جموں و کشمیر نے ایک حکم نامے کو مؤخر کر دیا تھا جس کے تحت جموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن اور اسٹیٹ اسکول اسٹینڈرڈز اتھارٹی کو ٹی ای ٹی امتحان کے انعقاد کے لیے نوڈل ایجنسی مقرر کیا گیا تھا۔










