’اس سے جموں و کشمیر میں ایک نامناسب روایت قائم ہو سکتی ہے‘
سرینگر؍۶جون
پیپلز کانفرنس کے صدر اور ہندواڑہ سے رکن اسمبلی سجاد غنی لون نے ہفتے کے روز پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی جانب سے آل انڈیا میڈیکل انسٹچوٹ(ایمز)اونتی پورہ میں ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کرنے پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی چونکہ منتخب رکنِ اسمبلی نہیں ہیں، اس لیے ان کا اس طرح کے سرکاری اجلاس کی صدارت کرنا ’’آئینی بے ضابطگی‘‘ ہے اور اس سے جموں و کشمیر میں ایک نامناسب روایت قائم ہو سکتی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں سجاد لون نے غیر منتخب سیاسی رہنماؤں کی جانب سے سرکاری اداروں کے جائزہ اجلاسوں کی صدارت کرنے پر تشویش ظاہر کی۔انہوں نے لکھا’’اب میرا محبوبہ جی سے ایک سوال ہے۔ اگر وہ آج کسی مرکزی ادارے کے جائزہ اجلاس کی صدارت کر سکتی ہیں، جبکہ وہ رکنِ اسمبلی نہیں ہیں، تو پھر آر ایس ایس یا بی جے پی کا کوئی غیر منتخب عہدیدار اسی نوعیت کے اجلاسوں کی صدارت کرنے سے کیوں روکا جائے؟‘‘
ہندواڑہ کے ممبر اسمبلی نے کہا کہ اگر اس طرزِ عمل کو قبول کر لیا جائے تو مختلف سیاسی جماعتوں کے وہ رہنما بھی، جو مقننہ کے رکن نہیں ہیں، سرکاری اجلاسوں کی صدارت کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔
لون نے کہا’’ڈاکٹر فاروق عبداللہ صاحب، آزاد صاحب یا نرمل سنگھ صاحب کو ایسے ہی اجلاسوں کی صدارت کرنے سے کون روک سکتا ہے؟ اس فہرست کو مزید طویل کیا جا سکتا ہے۔‘‘
پیپلز کانفرنس کے سربراہ نے سوال اٹھایا کہ کیا ملک کے کسی اور حصے میں بھی ایسی سیاسی مراعات موجود ہیں، اور انہوں نے ان روایتی آئینی اصولوں کے کمزور ہونے پر تشویش ظاہر کی۔انہوں نے کہا’’کیا جموں و کشمیر میں منتخب سیاسی دائرہ کار کا مقدر یہی ہے کہ وہ ایک مچھلی بازار بن کر رہ جائے؟‘‘
لون نے کہا کہ محبوبہ مفتی کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اس اجلاس کی صدارت کرنا ان کی جانب سے فیصلہ سازی میں ایک غلطی تھی۔انہوں نے کہا’’میں اب بھی یہی کہوں گا کہ ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسے اپنی غلطیِ فیصلہ تسلیم کریں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انہوں نے ہر قسم کے غیر منتخب افراد، اور غالباً سیاسی طور پر ناپسندیدہ عناصر کے لیے بھی ایسے اجلاسوں کی صدارت کا دروازہ کھول دیا ہے، خاص طور پر کشمیر میں۔‘‘
ہندواڑہ کے رکن اسمبلی نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس نوعیت کی سرگرمیوں سے متعلق آئینی اور انتظامی حدود و ضوابط کو واضح کریں۔انہوں نے کہا:’’اور براہِ کرم، وزیر اعلیٰ ایک بار ہمیشہ کے لیے ان معاملات کو واضح کریں۔‘‘
لون نے مزید الزام عائد کیا کہ اپوزیشن ارکان اسمبلی کے اختیارات کو کمزور کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ایسی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔انہوں نے لکھا:’’اگر وزیر اعلیٰ نے اپنے وزراء کو اپوزیشن ارکان اسمبلی کے خلاف نہ کھڑا کیا ہوتا اور ان کے اختیار کو کمزور نہ کیا ہوتا تو شاید آئینی بے ضابطگی کا یہ واقعہ پیش نہ آتا۔‘‘
محبوبہ مفتی کے اس حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے ایمز اونتی پورہ کی پیش رفت کے بارے میں مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا سے بات کی ہے، سجاد لون نے کہا کہ اصل مسئلہ منصوبے کی پیش رفت نہیں بلکہ آئینی تقاضوں کا ہے۔انہوں نے کہا’’نڈا صاحب ہندوستان کے معزز وزیر صحت ہیں، لیکن ان کے پاس آئینی کرداروں کی ازسرِ نو تشکیل کا اختیار نہیں ہے۔ اس لیے محبوبہ جی نے ان سے بات کی یا نہیں، اس سے بنیادی مسئلے پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘
لون نے مزید کہا’’کسی غیر رکنِ اسمبلی کی جانب سے ایمس کے جائزہ اجلاس کی صدارت آئینی حدود سے تجاوز تھا اور یہ آئینی حدود سے تجاوز ہی رہے گا۔‘‘










