تمام مذاہب کے احترام کا تصور ہزاروں برسوں سے ہندوستانی فلسفے اور تہذیب کا حصہ رہا ہے:ایل جی سنہا
’آج جب دنیا کے کئی ممالک بقائے باہمی کے چیلنج سے دوچار ہیں، بھارت میں تنوع ہمیشہ زندگی کا فطری انداز رہا ہے‘
ندائے مشرق خبر
سرینگر؍۴ جون
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر‘ منوج سنہا نے کہا ہے کہ بھارت نے ہمیشہ ’تنوع میں اتحاد‘ کے اصول کو فروغ دیا ہے اور سناتن دھرم کے بعد وجود میں آنے والے تمام مذاہب کا احترام کیا ہے۔
وہ جمعرات کو سرینگر میں منعقدہ ’ریشیور‘ بین المذاہب کانفرنس۲۰۲۶‘‘ سے خطاب کر رہے تھے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ تمام مذاہب کے احترام کا تصور ہزاروں برسوں سے ہندوستانی فلسفے اور تہذیب کا حصہ رہا ہے۔انہوں نے کہا، ’’آج جب دنیا کے کئی ممالک بقائے باہمی کے چیلنج سے دوچار ہیں، بھارت میں تنوع ہمیشہ زندگی کا فطری انداز رہا ہے۔ جہاں بہت سی اقوام اتحاد کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات کرتی ہیں، وہیں بھارت نے بقائے باہمی کی اقدار کو نہ صرف قبول کیا بلکہ ہزاروں سال تک انہیں عملی طور پر اپنائے رکھا۔‘‘
منوج سنہا نے کہا کہ رگ وید ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ دل اور ذہن ہم آہنگ ہوں، ہمارے مقاصد ایک ہوں، جذبات میں یکسانیت اور خیالات میں اتحاد ہو۔
ایل جی نے کہا کہ دنیا بھر کے محققین اور دانشور اس بات پر متفق ہیں کہ تمام مذاہب کے یکساں احترام کا فلسفہ قدیم ہندوستانی روایات سے جنم لیتا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’جب میں ان نظریات اور فلسفوں پر غور کرتا ہوں جو بھارت نے انسانیت کو عطا کیے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ ہمارے وید، اپنشد، اولیا، سنت اور دانشور اپنے افکار اور اعمال کے ذریعے عالمی امن کی راہ روشن کرتے رہے ہیں۔‘‘
سنہا نے کہا کہ معاشرے کے ہر طبقے کو انسانیت کی فلاح و بہبود کے مشترکہ مقصد کے تحت باہم جڑے رہنا چاہیے۔
ان کے مطابق، ’’تمام مذاہب کے لیے مساوی احترام کا جذبہ بھارت کا دنیا کے لیے سب سے قیمتی تحفہ ہے۔ ہمیں اس روایت کو مسلسل مضبوط بنانا ہوگا تاکہ ہم اتحاد کے ساتھ آگے بڑھ سکیں اور ہر طبقے کی خوشحالی کو یقینی بنا سکیں۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے ’’وندے ماترم‘‘ مہم کے تین مراحل کے دوران جموں و کشمیر کی شاندار کارکردگی کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عوام کے مضبوط حب الوطنی کے جذبے کا مظہر ہے۔
سنہا نے ’’نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان‘‘ کو ملنے والی عوامی حمایت کی بھی ستائش کی اور کہا کہ معاشرے کے تمام طبقات کی شرکت فطری اور حوصلہ افزا رہی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے شہریوں، تعلیمی اداروں اور سماجی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ اس مہم کو عوامی تحریک کے طور پر اپنائیں اور منشیات سے پاک اور صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔










