نئی دہلی، 03 جون (یو این آئی) کانگریس نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی وزارت کی بے ضابطگیاں لگاتار سامنے آنے کے باوجود وزیر اعظم نریندر مودی انہیں بچانے پر بضد ہیں اور اس کا جواب انہیں ملک کو دینا چاہیے۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات (کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ) کے انچارج جے رام رمیش نے بدھ کو سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر کہا کہ مرکزی ثانوی تعلیمی بورڈ (سی بی ایس ای) کی اعلیٰ قیادت کا تبادلہ کر دیا گیا ہے لیکن مسٹر پردھان عہدے پر برقرار ہیں، جبکہ ان کی وزارت کی نااہلی اور بدعنوانی کے الزامات سے جڑے نئے حقائق لگاتار سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا رپورٹوں کے مطابق تعلیم سے متعلق پارلیمانی قائمہ کمیٹی کے سامنے سی بی ایس ای اپنے آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) نظام کی خریداری کے عمل سے جڑے سوالات کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان سوالات کو سب سے پہلے ایک 18 سالہ طالب علم سارتھک سدھانت نے سوشل میڈیا کے ذریعے اٹھایا تھا، جس سے سی بی ایس ای اور وزارتِ تعلیم میں جوابدہی کی کمی عیاں ہوئی ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ ایک میڈیا انکوائری میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ او ایس ایم نظام کے ڈرائی رن میں شامل کئی شرکاء نے اس کے نفاذ کو لے کر سنگین اعتراضات درج کرائے تھے اور تمام جانچ کاروں (ایویلیویٹرز) کو مناسب تربیت دیے جانے تک اسے نافذ نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ ان کا الزام ہے کہ سی بی ایس ای نے ان تجاویز اور تکنیکی اعتراضات کو نظر انداز کرتے ہوئے اس نظام کو نافذ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ سی بی ایس ای طالب علموں کی جوابی کاپیوں کی دوبارہ جانچ (ری ویلیویشن) کے لیے مقررہ وقت کی پابندی کرنے میں بھی ناکام رہا ہے۔ پہلے 29 مئی کی آخری تاریخ بڑھائی گئی اور بعد میں ایک جون کی ترمیم شدہ تاریخ بھی پوری نہ ہو سکی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دو جون کو پورٹل شروع ہونے کے بعد بھی بہت سے طالب علموں کو اس تک پہنچنے اور فیس جمع کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ وزارتِ تعلیم بدعنوان، نااہل اور غیر حساس طریقے سے کام کر رہی ہے اور مختلف سروے میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے حامیوں کی طرف سے بھی وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ اٹھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر کار وزیر اعظم انہیں بچانے پر اتنے کیوں اڑے ہوئے ہیں۔










