ہم حیران ہیں اور سو فیصد حیران ہیں ۔اس ایک بات پر حیران ہیں کہ کیا ابھی میڈم جی …….میڈم محبوبہ جی کی سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی ہے کہ کشمیر کی سیاسی جماعتوں میں کبھی اتحاد ……. معاف کیجئے کبھی کسی بات پر اتفاق نہیں ہو سکتا ہے‘بالکل بھی نہیں ہو سکتا ہے ۔ اگر کشمیر کی سیاسی جماعتوں میں کسی بات ‘کسی مشترکہ لائحہ عمل اور حکمت عملی پر اتفاق ہو گیا تو ……. تو صاحب پھر وہ کشمیرکی سیاسی جماعتیں نہیں ہو سکتی ہیں ‘ بالکل بھی نہیں ہو سکتی ہیں ۔یہ کشمیر اور کشمیر کی سیاسی جماعتوں کے ڈی این اے میں ہے ……. یہ ہے کہ ان میں کسی بات پر اتفاق نہیں ہو سکتا ہے ‘ اتحاد تو دور کی بات ہے ۔ اس لئے میڈم محبوبہ جی کی یہ کوشش کہ کشمیر……. جموںکشمیر کے ریاستی درجے کی بحال پر ایک مشترکہ لائحہ وضع کیا جائے ‘ ایک مشترکہ جد و جہد کی جائے …….ایسا ہو نہیں سکتا ‘بالکل بھی نہیں ہو سکتا ہے اوراگر یہ بات میڈم جی کی سمجھ میں اب تک نہیں آئی تو اللہ میاں کی قسم ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ …….کہ محترمہ نے سیاست میں اپنے بال سچ میں دھوپ میں سفید کئے ہیں …….اور سو فیصد کئے ہیں ۔ان کے خط کا تو ابھی گورے گورے بانکے چھورے‘وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے کوئی جواب نہیں دیا ہے‘ لیکن خط کے لب و لہجے پر ہی فی الحال یہ دونوں جماعتیں جس طرح آمنے سامنے ہیں ‘وہ اس ایک بات کی پھر چغلی کھا رہا ہے کہ کشمیر کی سیاسی جماعتیں اپنے مفادات پر قوم کے مفادات کو قر بان کر سکتی ہیں اور سو فیصد کر سکتی ہیں ۔ ہاں کچھ محدود وقت کیلئے کشمیر کی سبھی جماعتیں ایک ہو گئی تھیں ……. سو فیصد ایک اور اللہ میاں کی قسم یہ کرشمہ صرف اس لئے ہوا کیونکہ اُس وقت کشمیر کی کوئی بھی سیاسی جماعت برسر روز گار نہیں تھی ……. سبھی جماعتیں اقتدار سے باہر تھیں اوراقتدار سے باہر رہنے کی وجہ سے ہی یہ کرشمہ ہوا تھا …….گپکار ایلائنس کے نام کا کرشمہ ۔اور جب اقتدار حاصل کرنے کی دوڈ شروع ہوئی تو ……. تو سبھی سیاسی جماعتیں اپنے اصلی رنگ اور روپ میں آئیں اور اب تک اسی رنگ و روپ میں یہ ہمارے اور آپ کے سامنے جلوہ گر ہیں ۔اس لئے صاحب کوئی اپنی میڈم جی کو سمجھائیے کہ اگر وہ بھی اقتدار میں ہو تیں تو ان کا رویہ بھی ایسا ہی ہو تا جو رویہ اپنے گورے گورے بانکے چھورے عمرعبداللہ نے اختیار کیا ہے ۔ہے نا؟




