آپ کے خط سے یہ تاثر ملتا ہے کہ میں نے آپ کو کئی ہفتوں سے ملاقات کیلئے انتظار کرایا‘ حالانکہ حقیقت ایسی نہیں ہے:وزیر اعلیٰ
سرینگر؍۲جون
جموں و کشمیر میں سیاسی اتحاد کی ایک اپیل منگل کو عوامی لفظی جنگ میں تبدیل ہو گئی جب پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ان کی ملاقات کی درخواستوں کو نظر انداز کیا، جس کی عمر عبداللہ نے فوری تردید کرتے ہوئے انہیں سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا الزام لگایا۔
محبوبہ مفتی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک خط میں، جو وزیر اعلیٰ سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں بشمول بی جے پی کو مخاطب تھا، جموں و کشمیر کی منقسم سیاسی قیادت سے اپیل کی کہ وہ لداخ کی حالیہ کامیابی سے سبق لیتے ہوئے خطے کی خصوصی شناخت اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے متحد ہو جائے۔تاہم سیاسی یکجہتی کی اس اپیل پر فوراً ہی سیاسی آداب اور ملاقات کے معاملے پر تلخ جملوں کا تبادلہ شروع ہو گیا۔
اپنے خط میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ وہ یہ خط عوامی طور پر لکھنے پر اس لیے مجبور ہوئیں کیونکہ انہوں نے عمر عبداللہ سے ملاقات کے لیے وقت مانگا تھا، لیکن ’’ان کی مصروفیات کے باعث یہ ممکن نہیں ہو سکا۔‘‘سابق وزیر اعلیٰ نے لکھا، ’’اس لیے میں آپ کو خط لکھنے کی جسارت کر رہی ہوں کیونکہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور ہم مزید تاخیر کے متحمل نہیں ہو سکتے۔‘‘
عمر عبداللہ نے اس بیان پر فوری ردعمل دیتے ہوئے محبوبہ مفتی پر سیاسی فائدے کے لیے حقائق کو غلط انداز میں پیش کرنے کا الزام عائد کیا۔
وزیر اعلیٰ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’محبوبہ مفتی صاحبہ! ہفتے کے روز ہماری بات ہوئی تھی جب آپ نے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی۔ میں نے آپ کو بتایا تھا کہ اتوار کو میں پہلگام میں ہوں گا اور پیر یا منگل کو ملاقات طے کرنے کے لیے آپ سے رابطہ کروں گا۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’آپ کے خط سے یہ تاثر ملتا ہے کہ میں نے آپ کو کئی ہفتوں سے ملاقات کے لیے انتظار میں رکھا ہوا ہے، حالانکہ حقیقت ایسی نہیں ہے۔ بہرحال، اب آپ کا خط عوامی سطح پر آ چکا ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ وہ اس تجویز پر اپنی جماعت نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنماؤں سے مشاورت کے بعد باضابطہ جواب دیں گے اور اسی انداز میں جواب عوام کے سامنے رکھیں گے، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ ان کا جواب بھی سوشل میڈیا پر جاری کیا جائے گا۔
نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنماؤں نے الزام لگایا کہ محبوبہ مفتی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے جان بوجھ کر حقائق کو مسخ کر رہی ہیں۔
محبوبہ مفتی کی یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لداخ کی لیہہ ایپکس باڈی اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس نے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حالیہ پیش رفت حاصل کی ہے۔
انہوں نے اپنے خط میں کہا کہ ’’صرف مذاکرات ہی بامعنی نتائج دے سکتے ہیں‘‘ اور یہ کہ جموں و کشمیر اس وقت تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں مایوسی اور بے یقینی کا غلبہ ہے۔
محبوبہ نے لکھا، ’’علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور باہمی کشمکش نے جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔ خصوصاً۲۰۱۹ کے بعد ایک معقول اتفاقِ رائے ہی واحد راستہ ہے۔ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔‘‘
پی ڈی پی صدر نے اس مجوزہ سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لیے وزیر اعلیٰ کی حمایت کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے عمر عبداللہ سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام متعلقہ فریقوں کا باضابطہ اجلاس طلب کریں تاکہ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ ایک متحدہ سیاسی رابطے کی راہ ہموار کی جا سکے۔
محبوبہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس اقدام کو ’’سیاسی کریڈٹ لینے یا پوائنٹ اسکورنگ‘‘ کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے اور رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ اختلافی نقطۂ نظر کو پسِ پشت ڈال کر مشترکہ مفاد کے لیے آگے بڑھیں۔
اپنی ہمہ گیر سیاسی محاذ کی تجویز کے تحت محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما محمد یوسف تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمنٹ انجینئر رشید اور کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو سمیت متعدد سیاسی و سماجی شخصیات کو بھی یکساں خطوط ارسال کیے ہیں۔ (ایجنسیاں)










