عمرہ ویزے ۹مارچ۲۰۲۷ تک جاری کیے جائیں گے‘داخلے کی آخری تاریخ۲۳ مارچ جبکہ روانگی کی آخری تاریخ۷ اپریل۲۰۲۷ مقرر
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍یکم جون
سعودی عرب نے نئے عمرہ سیزن کے لیے اتوار۳۱ مئی سے عمرہ ویزوں کا اجرا شروع کر دیا ہے۔ یہ اقدام رواں سال کے حج کی تکمیل کے فوراً بعد کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی سال بھر جاری رہنے والے عمرہ سفر کے نئے مرحلے کا آغاز ہو گیا ہے۔
سعودی حکام کے مطابق زائرین اب مکہ مکرمہ میں داخلے اور عمرہ پرمٹ کے حصول کے لیے حکومت کی جانب سے متعارف کردہ ’’نسک‘‘ ایپ کا استعمال کر سکتے ہیں، جو اجازت ناموں، بکنگ اور دیگر حج و عمرہ خدمات کے لیے ایک جامع ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے۔
سعودی وزارتِ حج و عمرہ نے اعلان کیا ہے کہ عمرہ ویزے یکم شوال۱۴۴۸ ہجری، مطابق۹مارچ۲۰۲۷ تک جاری کیے جائیں گے۔ زائرین کیلئےسعودی عرب میں داخلے کی آخری تاریخ۲۳ مارچ۲۰۲۷جبکہ روانگی کی آخری تاریخ۷ اپریل۲۰۲۷ مقرر کی گئی ہے۔
وزارت نے عمرہ خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں اور بیرونِ ملک ایجنٹوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ مقررہ شیڈول اور تمام ضوابط کی سختی سے پابندی کریں تاکہ زائرین کو معیاری خدمات فراہم کی جا سکیں اور عمرہ کا عمل خوش اسلوبی سے مکمل ہو۔
حالیہ برسوں میں سعودی عرب نے ’’نسک‘‘ پلیٹ فارم کے ذریعے عمرہ خدمات کو مزید وسعت دی ہے۔ اس نظام کے تحت الیکٹرانک پرمٹ، خودکار معاہداتی عمل اور کیو آر کوڈ کی تصدیق جیسی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ زائرین کے لیے سفر کو آسان بنایا جا سکے۔
سعودی حکومت ہوائی اڈوں، زمینی سرحدی گزرگاہوں اور بندرگاہوں پر بائیومیٹرک اسکریننگ، چہرے کی شناخت کے نظام اور ای پرمٹ کے استعمال کو بھی وسعت دے رہی ہے۔
سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اتھارٹی امیگریشن، لاجسٹکس اور ہوائی اڈہ حکام کے تعاون سے زائرین کے لیے ڈیجیٹل نظام کی نگرانی کر رہی ہے۔ بزرگ زائرین اور خصوصی افراد کی سہولت کے لیے موبائل پروسیسنگ سسٹم بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق سعودی عرب نومبر۲۰۲۵ میں متعارف کرائی گئی اصلاحات پر بھی عمل پیرا ہے، جن کے تحت روایتی طوافہ تنظیموں کی جگہ لائسنس یافتہ حج و مہمان نوازی کمپنیوں کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ نئے قانون کے مطابق یہ کمپنیاں زائرین کی رہائش، نقل و حمل اور دیگر خدمات کی براہ راست ذمہ دار ہوں گی۔
سعودی وزارتِ داخلہ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ حج کے لیے سرکاری اجازت نامہ حاصل کرنا لازمی ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کو۲۰ ہزار سعودی ریال تک جرمانہ، ملک بدری اور۱۰سال تک سعودی عرب میں دوبارہ داخلے پر پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
وزارت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ حج کے دوران مکہ مکرمہ میں بغیر اجازت داخلے پر عائد پابندیاں بدستور نافذ رہیں گی۔
دریں اثنا وہ لمحہ جب آخری حاجی مناسک ادا کرنے کے بعد اپنے ملک کی طرف روانہ ہو کر مشاعر مقدسہ کو خیرباد کہتا ہے، اسی لمحے سعودی عرب اگلے حج سیزن کی تیاریاں پہلے ہی شروع کر چکا ہوتا ہے۔ سعودی عرب میں حج کی کامیابی کو ایک اختتامی مرحلے کے بجائے منصوبہ بندی اور ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز سمجھا جاتا ہے۔ سعودی عرب ضیوف الرحمن ( اللہ کے مہمانوں ) کی خدمت کے لیے سال بہ سال نئے ہونے والے ایک مربوط ورک سسٹم کے تحت کام کرتا ہے۔
سعودی وزارتِ داخلہ کی جانب سے۱۴۴۷ ہجری کے حج سیزن کے منصوبے کی کامیابی کے اعلان کے ساتھ ہی ایک ایسے عظیم الشان قومی نظام کی تصویر واضح ہو کر سامنے آتی ہے جس نے حجاج کرام کے اپنے ملک سے روانگی سے لے کر واپسی تک حج کے سفر کو محفوظ بنانے کے لیے طویل مہینوں تک کام کیا ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسے مربوط تجربے کے تحت ہوتا ہے جس نے امن و امان، تنظیم، خدمات اور جدید ٹیکنالوجی کو یکجا کیا گیا ہوتا ہے۔
سعودی وزارتِ داخلہ کی کوششیں صرف مشاعر مقدسہ کے اندر سیزن کے انتظام تک محدود نہیں رہیں بلکہ یہ ’روڈ ٹو مکہ‘ اقدام کے ذریعے سعودی عرب کی سرحدوں سے باہر تک پھیل گئی ہیں۔ اس اقدامکو آٹھویں سال۱۰ممالک اور۱۷ بین الاقوامی داخلی راستوں پر نافذ کیا گیا۔ اس اقدام کے تحت حجاج کی آمد سے قبل ہی ان کے اپنے ملکوں میں کارروائی مکمل کی گئی جس نے ان کے سفر کو اس کے ابتدائی لمحات ہی سے آسان بنانے میں مدد فراہم کی۔
اسی طرح فضائی، بری اور بحری راستوں نے ایک ایسے مربوط نظام کے تحت ضیوف الرحمن کا استقبال جاری رکھا جس میں علاقوں کی امارات، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پاسپورٹ اور شراکت دار اداروں نے حصہ لیا تاکہ حج کا سفر درست تنظیمی اور حفاظتی اقدامات کے درمیان شروع ہو سکے۔










