’ روایتی سرحدی سکیورٹی کے ساتھ ’’علاقائی سلامتی‘‘ کا ایک نیا تصور بھی متعارف کرایا جائے گا‘جس پر کام جاری ہے ‘
حرامی نالہ اور سر کریک کے حساس علاقوں کو محفوظ بنانے کے لیے جاری کام تقریباً۷۰فیصد مکمل ہو چکا ہے:وزیر داخلہ
ایجنسیز
بھج؍۲۹ مئی
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کو کہا کہ حکومت بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے آپریشنل مینڈیٹ میں توسیع پر غور کر رہی ہے اور اسے نئے شعبوں اور ذمہ داریوں کی نگرانی سونپنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔
شاہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ روایتی سرحدی سکیورٹی کے ساتھ ’’علاقائی سلامتی‘‘ کا ایک نیا تصور بھی متعارف کرایا جائے گا۔
گجرات کے ضلع کچھ کے دورے کے دوران بی ایس ایف اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے سرحدی سکیورٹی کا جائزہ لیا اور کہا کہ پاکستان کے ساتھ واقع حرامی نالہ اور سر کریک کے حساس علاقوں کو محفوظ بنانے کے لیے جاری کام تقریباً۷۰فیصد مکمل ہو چکا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ مرکز نے بی ایس ایف کے سرحدی تحفظ کے تصور کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس وقت بی ایس ایف پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ بھارت کی سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دے رہی ہے۔
شاہ نے کہا، ’’جب میں نے وزیر داخلہ کا عہدہ سنبھالا اور بی ایس ایف کی سرگرمیوں کا پہلا جائزہ لیا تو حرامی نالہ اور سر کریک کے علاقے سکیورٹی کے لحاظ سے نسبتاً کمزور نظر آئے۔‘‘انہوں نے کہا کہ حکومت نے ہر لحاظ سے ناقابلِ رسائی اور مضبوط سکیورٹی گرڈ قائم کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ بنایا، جس میں واچ ٹاورز، رابطہ سڑکوں، پینے کے پانی، طبی سہولیات، رہائشی ڈھانچوں اور نئی باڑ کی تنصیب جیسے اقدامات شامل ہیں۔
وزیر داخلہ نے کہا، ’’مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ اس منصوبے کا تقریباً۷۰ فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور آئندہ دو برسوں میں یہ حساس علاقہ دشمن کی کسی بھی ناپاک نظر سے مکمل طور پر محفوظ ہو جائے گا۔‘‘انہوں نے کہا کہ بی ایس ایف کے قیام کے۶۰ برس مکمل ہونے کے موقع پر سرحدی سکیورٹی کے پورے تصور کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔
شاہ نے کہا کہ آنے والے دنوں میں چار نکاتی حکمت عملی پر مبنی ایک نیا سکیورٹی گرڈ قائم کیا جائے گا، جس میں روایتی سرحدی تحفظ کے ساتھ ’’علاقائی سلامتی‘‘ کے نئے تصور کو بھی شامل کیا جائے گا۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام میں عام شہری، سول انتظامیہ، مقامی پولیس، فوج اور بی ایس ایف سب مل کر کام کریں گے، جبکہ بی ایس ایف اس پورے عمل میں مرکزی کردار ادا کرتی رہے گی۔
وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ ’’اسمارٹ بارڈر سکیورٹی‘‘ منصوبے کے تحت حکومت پاکستان اور بنگلہ دیش سے متصل پوری سرحد پر سکیورٹی گرڈ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس منصوبے پر ہزاروں کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے اور فی الحال اس کی منصوبہ بندی جاری ہے۔
شاہ نے کہا کہ جدید ڈرونز، ریڈار سسٹمز، واچ ٹاورز، جدید ٹیکنالوجی اور بی ایس ایف کے بہادر اہلکاروں کو یکجا کرکے ایک ناقابلِ تسخیر سکیورٹی گرڈ قائم کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا، ’’ہم بی ایس ایف کے آپریشنل مینڈیٹ میں توسیع پر بھی سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں اور مستقبل قریب میں فورس کو مزید شعبوں اور نئی ذمہ داریاں سونپنے کا امکان ہے۔‘‘
بنگلہ دیش سے متصل مغربی بنگال کی سرحد کا ذکر کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ بھارت کی سرحدی سکیورٹی میں سب سے بڑا چیلنج اسی علاقے میں درپیش ہے۔
شاہ نے دعویٰ کیا کہ مغربی بنگال میں بی جے پی کی حکومت قائم ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ نے صرف ایک ہفتے کے اندر سرحدی باڑ لگانے کے لیے درکار تمام زمین فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور زمین حوالگی کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ باڑ مکمل ہونے کے بعد غیر قانونی دراندازی میں نمایاں کمی آئے گی، جبکہ جنگلاتی، پہاڑی اور آبی راستوں پر تکنیکی باڑ نصب کرنے کے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔
شاہ اس وقت ملک کے سرحدی علاقوں کے توسیعی دورے پر ہیں، جہاں وہ سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے علاوہ مقامی حکام اور بی ایس ایف کے سینئر افسران سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔انہوں نے اپنے دورے کا آغاز راجستھان کے بیکانیر سے کیا تھا، جہاں انہوں نے سانچو بارڈر آؤٹ پوسٹ کا دورہ کیا، ’’پراہری سمیلن‘‘ میں شرکت کی، خواتین اہلکاروں کے لیے نئی بیرکوں کا ورچوئل افتتاح کیا اور سرحدی سکیورٹی کا جائزہ لیا۔
حکام کے مطابق امت شاہ۵جون کو تریپورہ اور اس کے بعد مغربی بنگال کا دورہ بھی کر سکتے ہیں تاکہ بنگلہ دیش سے متصل سرحدی علاقوں کی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔
۔۔۔۔










