اس بات پر فخر ہے کہ نجی شعبے کے ذریعے سوئس مہارت خطے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے:مایا تسافی
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۲۹مئی
بھارت میں سوئٹزرلینڈ کی سفیر مایا تسافی نے جمعہ کو یہاں جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور اور تعاون کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔
وزیر اعلیٰ کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’’بھارت میں سوئٹزرلینڈ کی سفیر مایا تسافی نے آج سری نگر میں وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے متعدد موضوعات، جن میں پائیدار سیاحت، باغبانی اور اس سے منسلک شعبے شامل ہیں، پر گفتگو کی۔‘‘
اس سے قبل جمعرات کو سوئٹزرلینڈ کی سفیر نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے بھی ملاقات کی تھی۔
مایا تسافی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا، ’’سری نگر میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ساتھ مفید ملاقاتیں ہوئیں، جن میں کشمیر میں سوئٹزرلینڈ اور بھارت کے درمیان تعاون کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ان شعبوں میں پائیدار سیاحت، پیشہ ورانہ تربیت، خوراک کی پروسیسنگ اور زراعت شامل ہیں۔‘‘
سوئس سفیر نے کہا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ نجی شعبے کے ذریعے سوئس مہارت خطے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے، جس میں سرنگوں اور پلوں کی تعمیر، پن بجلی کی ٹیکنالوجی اور مشترکہ تحقیقی منصوبے شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا، ’’اور ہاں، کشمیر میں اچھی گفتگو کے ساتھ ایک کپ قہوہ بھی ضرور شامل ہوتا ہے!‘‘
مایا تسافی نے شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں واقع مشہور سیاحتی مقام اور اسکی ریزورٹ گلمرگ کا بھی دورہ کیا۔انہوں نے کہا، ’’شاہ رخ خان کی فلم دل والے دلہنیا لے جائیں گے سے لے کر جب تک ہے جاں تک، بالی ووڈ نے سوئٹزرلینڈ اور گلمرگ دونوں کو پردۂ سیمیں پر ناقابلِ فراموش بنا دیا۔ گلمرگ کو پہلی بار دیکھ کر مجھے بخوبی اندازہ ہوا کہ فلم ساز بار بار ان وادیوں کا رخ کیوں کرتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ قدرتی حسن کے علاوہ پہاڑی خطوں کی مشترکہ ذمہ داریاں بھی ہیں، جن میں موسمیاتی اور قدرتی چیلنجوں کے مقابلے کی صلاحیت، پائیدار سیاحت اور قدرتی آفات کے خطرات میں کمی شامل ہیں۔
سفیر نے مزید کہا، ’’اسی وجہ سے سوئٹزرلینڈ اور بھارت اس خطے میں مختلف منصوبوں پر مل کر کام کر رہے ہیں، جن میں کشمیر یونیورسٹی میں ہمالیائی گلیشیالوجی کا مشترکہ پروگرام اور ای ٹی ایچ زیورخ کے ساتھ بادلوں سے متعلق تحقیقی منصوبے شامل ہیں۔ اس دوران مجھے کشمیر کے شال اور قالین بافوں کی فنکاری کا مشاہدہ کرنے کا بھی موقع ملا، جو یہاں کے قدرتی مناظر کی طرح ہی دلکش ہے۔‘‘










