فورسز، سول انتظامیہ اور بیدار شہریوں کے درمیان مضبوط تال میل سرحدوں پر ایک مضبوط حفاظتی ڈھانچہ قائم کر سکتا ہے:شاہ
ایجنسیز
بیکانیر؍۲۶ مئی
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے منگل کو کہا کہ حکومت آئندہ چھ ماہ کے اندر اینٹی ڈرون سسٹمز نصب کرنے کے عمل میں ہے تاکہ ڈرونز کے ذریعے منشیات اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ پر قابو پایا جا سکے۔
تاہم، انہوں نے زور دے کر کہا کہ چونکہ ڈرون بھارتی حدود میں آکر اترتے ہیں، اس لیے ان کھیپوں کو وصول کرنے والوں کی شناخت اور خطرات کو مؤثر طریقے سے ناکام بنانے کے لیے مقامی پولیس اور سول انتظامیہ کے ساتھ قریبی تال میل نہایت ضروری ہے۔
شاہ نے کہا کہ سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف)، مسلح افواج، مقامی انتظامیہ اور شہریوں پر مشتمل کثیر سطحی ’’چار نکاتی سکیورٹی گرڈ‘‘ انتہائی اہم ہے۔
وزیر خارجہ نے راجستھان کے بیکانیر ضلع میں سانچو بارڈر آؤٹ پوسٹ پر بی ایس ایف اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ڈرونز اور دیگر جدید آلات کے ذریعے منشیات اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے پوری طرح چوکنا رہیں۔ حکومت آئندہ چھ ماہ کے اندر اینٹی ڈرون سسٹمز نصب کرنے کے اقدامات کر رہی ہے۔‘‘
شاہ نے کہا کہ سکیورٹی فورسز، سول انتظامیہ اور بیدار شہریوں کے درمیان مضبوط تال میل سرحدوں پر ایک مضبوط حفاظتی ڈھانچہ قائم کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا، ’’جب تک یہ چار جہتی تال میل حاصل نہیں ہوتا، مکمل طور پر محفوظ سرحد کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔‘‘
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ سرحد پار سے آنے والے خطرات پر نظر رکھنا جتنا ضروری ہے، اتنی ہی توجہ ملک کے اندر موجود ان عناصر پر بھی دینی ہوگی جو ایسے خطرات کو سہارا دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔
جاری کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایک اہلکار نے بتایا کہ سرحدی علاقوں بشمول بہار، گجرات، تریپورہ اور مغربی بنگال کی ریاستی حکومتوں اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ ’’چار نکاتی سکیورٹی گرڈ‘‘ کو مضبوط بنانے اور نافذ کرنے کے لیے متعدد میٹنگیں منعقد کی جا رہی ہیں۔
شاہ نے ’’آپریشن سندور‘‘ کے دوران بی ایس ایف کے کردار کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ فورس نے نہ صرف سرحد کی مضبوطی سے حفاظت کی بلکہ سرحدی اضلاع میں رہنے والے لوگوں کے حوصلے بھی بلند کیے۔
شاہ نے بی ایس ایف کے قیام کے بعد سے شہید ہونے والے دو ہزار سے زائد اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ بی ایس ایف جوانوں نے صحراؤں، گھنے جنگلات اور برف سے ڈھکے انتہائی سرد علاقوں سمیت دشوار حالات میں خدمات انجام دی ہیں اور جرات، نظم و ضبط اور عظیم قربانی کے جذبے کا مظاہرہ کیا ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا، ’’ان اہلکاروں کی قربانی۱۴۰ کروڑ ہندوستانیوں پر ایک قرض ہے اور قوم کو ان پر فخر ہے۔‘‘انہوںنے آؤٹ پوسٹ پر خواتین کے لیے نئی بیرکس کا افتتاح بھی کیا اور کہا کہ خواتین اہلکاروں نے سرحدی سلامتی کے فرائض میں توقعات سے بڑھ کر کارکردگی دکھا کر اپنی صلاحیتوں کا ثبوت دیا ہے۔
شاہ نے کہا کہ خواتین اہلکاروں کے لیے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دی جا رہی ہے اور۲۰۳۰ تک تمام سرحدی چوکیوں پر سہولیات کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔۱۹۶۵کی ہند-پاک جنگ کا ذکر کرتے ہوئے شاہ نے کہا کہ سانچو آؤٹ پوسٹ تاریخی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ پاکستانی افواج کے شدید حملوں کے باوجود سکیورٹی اہلکاروں نے اس کا کامیابی سے دفاع کیا تھا۔
شاہ نے راجستھان میں سرحدی بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے کیے جا رہے اقدامات کا بھی ذکر کیا، جن میں سڑکوں کی تعمیر، نئی باڑ ڈیزائنز اور۱۸۰ سرحدی چوکیوں تک پانی کی پائپ لائن کی فراہمی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکز نے بدلتے ہوئے خطرات کے پیش نظر اندرونی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے بین الاقوامی سرحدوں کے ساتھ بی ایس ایف کے آپریشنل دائرہ کار کو۱۵کلومیٹر سے بڑھا کر۵۰کلومیٹر کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ چند سال قبل اس مقصد سے لیا گیا تھا تاکہ ملک دشمن عناصر کی جانب سے ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سمیت نئے دور کے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔
وزیر داخلہ نے کہا، ’’قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے صرف سرحدوں کی حفاظت کافی نہیں، بلکہ ریاستی حکومتوں کے ساتھ تال میل میں علاقائی سلامتی پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔‘‘
شاہ نے کہا کہ بی ایس ایف کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ سرحد سے۵۰ کلومیٹر کے اندر واقع دیہات میں مشتبہ سرگرمیوں، جیسے غیر قانونی تعمیرات اور آبادی میں غیر معمولی تبدیلیوں کے بارے میں ضلعی کلکٹروں اور پولیس سپرنٹنڈنٹس سمیت سول حکام کو آگاہ کرے۔
شاہ نے کہا کہ جب سے وزیر اعظم نریندر مودی نے۲۰۱۴میں اقتدار سنبھالا ہے، ہندوستان کے سکیورٹی منظرنامے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، جس میں فوجی جدیدکاری اور سرحدی سلامتی پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جامع قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مسلح افواج کی جدیدکاری اور بی ایس ایف جیسی سرحدی فورسز کو مضبوط بنانے کو ترجیح دی ہے۔
مرکز کی پالیسی کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے دہشت گردانہ سرگرمیوں کے خلاف ’’منہ توڑ اور بے رحم جواب‘‘ دینے کی مضبوط پالیسی اختیار کی ہے۔ تاہم، انہوں نے زور دیا کہ مقصد ایسا مضبوط حفاظتی نظام قائم کرنا ہونا چاہیے کہ دشمن دراندازی یا حملے کی کوشش کرنے کی جرات ہی نہ کرے۔انہوں نے کہا کہ وائبرنٹ ولیج پروگرام اور مجوزہ ’’چار نکاتی سکیورٹی گرڈ‘‘ جیسے اقدامات سرحدی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور فورسز، انتظامیہ اور مقامی برادریوں کے درمیان تال میل بڑھانے کے لیے شروع کیے گئے ہیں۔










