سرکاری دعوتوں اور غیر ضروری اخراجات پر مکمل پابندی
ندائے مشرق
سرینگر؍۲۳مئی
جموں و کشمیر حکومت نے مالی سال۲۰۲۶۔۲۷ کے لیے کفایت شعاری کے متعدد اقدامات متعارف کرائے ہیں، جن کا مقصد مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنانا، غیر ضروری اخراجات میں کمی لانا اور مختلف محکموں میں ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی کو فروغ دینا ہے۔
محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری ایک سرکاری حکم نامے کے مطابق تمام سرکاری محکموں اور اداروں کو فوری طور پر اخراجات کو معقول بنانے کی سخت ہدایات دی گئی ہیں۔
حکم نامے میں کانفرنسوں، سیمیناروں، سرکاری سفر، گاڑیوں کی خریداری، دفتری عمارتوں کے کرایے اور استقبالیہ تقاریب پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
نئی ہدایات کے تحت سرکاری محکموں کو کہا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری سیمینار، ورکشاپس اور کانفرنسیں منعقد کرنے سے گریز کریں اور جہاں ممکن ہو، ورچوئل میٹنگز کو ترجیح دی جائے۔
حکومت نے نجی ہوٹلوں اور تجارتی مقامات پر سرکاری اجلاسوں اور کانفرنسوں کے انعقاد پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے اور محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سرکاری عمارتوں اور کانفرنس ہالوں کا استعمال کریں۔
حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ تقریبات، غیر ضروری تشہیر، یادگاری اشاعتوں اور تشہیری مواد پر ہونے والے اخراجات کو کم سے کم کیا جائے۔
اخراجات میں کمی کے ایک بڑے اقدام کے طور پر محکمہ خزانہ نے نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ متبادل گاڑیوں کی اجازت صرف غیر معمولی حالات میں پیشگی منظوری کے بعد دی جائے گی اور اس کے لیے گاڑیوں کی تعداد میں۲۰فیصد کمی لازمی ہوگی۔
محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ نئی گاڑیوں کے مطالبے سے قبل ناکارہ قرار دی گئی گاڑیوں کی نیلامی کی جائے۔
حکومت نے سرکاری سفر سے متعلق قواعد بھی مزید سخت کر دیے ہیں۔حکم نامے کے مطابق کسی بھی سرکاری افسر کو محکمہ خزانہ کی خصوصی منظوری کے بغیر بیرونِ ملک سفر کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ اندرونِ ملک تمام فضائی سفر استحقاق سے قطع نظر اکنامی کلاس میں ہی کیا جائے گا۔
محکموں کو سفری اخراجات کم کرنے کے لیے ویڈیو کانفرنسنگ اور ڈیجیٹل رابطہ پلیٹ فارمز کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔
توانائی کے تحفظ کے اقدامات کے تحت سرکاری گاڑیوں، ایئر کنڈیشنرز، جنریٹروں اور روشنی کے آلات کے غیر ضروری استعمال سے گریز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
محکمہ خزانہ نے لیفٹیننٹ گورنر اور وزیر اعلیٰ کی جانب سے منعقد کی جانے والی تقاریب کے علاوہ سرکاری عشائیوں، ظہرانوں اور استقبالیہ تقریبات پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ مالی سال کے دوران کوئی نئی اسامیاں تخلیق نہیں کی جائیں گی، جبکہ دو سال سے زائد عرصے سے خالی پڑی اسامیوں کو غیر معمولی حالات کے علاوہ ختم کیا جا سکتا ہے۔
مزید برآں نئی کنسلٹنسی تقرریوں، آؤٹ سورسنگ انتظامات اور نئے پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹس کے قیام پر بھی پیشگی منظوری کے بغیر پابندی عائد کی گئی ہے۔
ای گورننس کو فروغ دینے کے لیے محکموں کو ’ڈیجیٹل فرسٹ‘حکمت عملی اپنانے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ ای-آفس نظام اور ورچوئل رابطہ پلیٹ فارمز کے ذریعے فائلوں کی جسمانی نقل و حرکت، کاغذی استعمال اور بھاری دستاویزات کی چھپائی کو کم کیا جا سکے۔
حکومت نے مزید کہا ہے کہ محکمہ خزانہ کی خصوصی منظوری کے بغیر کیپیکس بجٹ کے تحت غیر ترجیحی منصوبوں، بشمول رہائشی کوارٹروں اور دفتری عمارتوں کی تزئین و آرائش، کے لیے فنڈز جاری نہیں کیے جائیں گے۔
حکم نامے کے مطابق انتظامی سیکریٹریز اور مالیاتی مشیران ان کفایت شعاری اقدامات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کے ذاتی طور پر ذمہ دار ہوں گے۔
یہ کفایت شعاری اقدامات یونین ٹریٹری میں مالیاتی احتیاط اور سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال پر بڑھتی توجہ کے پیشِ نظر متعارف کرائے گئے ہیں۔










