(ایجنسیز)
نئی دہلی؍۲۲مئی
سپریم کورٹ نے جمعہ کو کہا کہ وہ اگلے ہفتے اُس عرضی پر سماعت کرے گا جس میں سی بی ایس ای کی اُس نئی پالیسی کو چیلنج کیا گیا ہے، جس کے تحت یکم جولائی سے نویں جماعت کے طلبہ کے لیے تین زبانوں کا مطالعہ لازمی قرار دیا گیا ہے، جن میں کم از کم دو مقامی بھارتی زبانیں شامل ہوں گی۔
سینئر وکیل مکل روہتگی نے یہ معاملہ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وپل ایم پنچولی پر مشتمل بنچ کے سامنے پیش کیا۔
روہتگی نے کہا’’یہ ایک فوری نوعیت کی مفادِ عامہ کی عرضی ہے۔ درخواست گزار طلبہ، اساتذہ اور والدین ہیں۔ وہ سی بی ایس ای کی نئی پالیسی کو چیلنج کر رہے ہیں، جس کے تحت نویں جماعت میں دو مزید زبانیں لازمی قرار دی گئی ہیں‘‘۔
انہوں نے عدالتِ عظمیٰ سے گزارش کی کہ معاملے کو پیر کے روز سماعت کے لیے درج کیا جائے۔ روہتگی نے کہا، ’’اس سے افراتفری پیدا ہوگی‘‘۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اگلا ہفتہ متفرق معاملات کی سماعت کے لیے مختص ہے اور یہ معاملہ فہرست میں شامل کیا جائے گا۔
سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کی جانب سے جاری ایک حالیہ سرکولر کے مطابق، یکم جولائی سے نویں جماعت کے طلبہ کے لیے تین زبانوں کا مطالعہ لازمی قرار دیا گیا ہے، جن میں کم از کم دو مقامی بھارتی زبانیں شامل ہوں گی۔










