سرینگر؍۲۱مئی
نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کے ایک اور واقعے میں کالعدم تنظیم البدر کے ایک اعلیٰ آپریشنل کمانڈر کو پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر کے مظفرآباد میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
ارجمند گلزار عرف برہان حمزہ، جو نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ میں مارا گیا، بھارت میں جموں و کشمیر میں ایک منظم دہشت گرد نیٹ ورک چلانے کے الزام میں مطلوب تھا۔
۲۰۲۳ سے اب تک لشکرِ طیبہ، جیشِ محمد اور حزب المجاہدین جیسی تنظیموں کے۵۰سے زائد اہم کمانڈروں کو پاکستان اور پی او کے میں نامعلوم حملہ آوروں نے ہلاک کیا ہے۔
سکیورٹی ایجنسیوں نے تصدیق کی کہ حمزہ بھارت مخالف دہشت گرد کارروائیوں میں سرگرم تھا اور جنوبی کشمیر میں نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف راغب کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا تھا۔
ارجمند گلزار جموں و کشمیر کے ضلع پلوامہ کے رتن پورہ علاقے کا رہنے والا تھا۔ تقریباً سات برس قبل وہ پاکستان گیا تھا، جہاں بعد میں اس نے البدر تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔
بعد ازاں وہ تنظیم کا آپریشنل کمانڈر بن گیا اور سرحد پار سے کشمیر میں بھرتی، مالی معاونت اور اسلحہ سپلائی کا نیٹ ورک چلا رہا تھا۔
وزارتِ داخلہ نے۲۰۲۲ میں اسے دہشت گرد قرار دیا تھا۔ پلوامہ اور جنوبی کشمیر میں دہشت گردی پھیلانے کے الزام میں وہ بھارتی سکیورٹی ایجنسیوں کی ’موسٹ وانٹیڈ‘ فہرست میں شامل تھا۔
پلوامہ طویل عرصے سے دہشت گرد سرگرمیوں کا حساس مرکز رہا ہے۔ مارے گئے دہشت گرد برہان وانی کی طرح ارجمند گلزار کو بھی’ڈیجیٹل شدت پسندی‘ کے ماڈل کا حصہ سمجھا جاتا تھا، جو سوشل میڈیا اور مقامی نیٹ ورکس کے ذریعے نوجوانوں کو دہشت گردی کی طرف مائل کرتا تھا۔
حکام کے مطابق اس کا نیٹ ورک پلوامہ، شوپیاں اور اونتی پورہ میں سرگرم تھا۔ وہ پاکستان سے اوور گراؤنڈ ورکرز کے ذریعے بھارت میں اسلحہ، رقم اور ہدایات بھیجنے کے رابطے میں رہتا تھا۔
اس کا نام دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی، گرینیڈ حملوں اور دہشت گرد بھرتیوں سے متعلق کئی معاملات میں سامنے آیا تھا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق ارجمند گلزار کی ہلاکت ان دہشت گرد تنظیموں کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہے جو پی او کے میں قائم اڈوں سے وادی میں دہشت گردی کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
یاد رہے کہ اپریل میں دہشت گرد تنظیم لشکرِ طیبہ کے کمانڈر شیخ یوسف آفریدی کو پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں نامعلوم مسلح افراد نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ حملہ آوروں نے حافظ سعید کے قریبی ساتھی آفریدی پر متعدد گولیاں چلائی تھیں۔
اسی طرح مارچ میں لاہور میں ایک ٹی وی اسٹیشن کے باہر نامعلوم حملہ آور نے لشکرِ طیبہ کے بانی ارکان میں شامل مطلوب دہشت گرد امیر حمزہ کو نشانہ بنایا تھا، تاہم وہ اس حملے میں بچ گیا تھا۔
ویب ڈیسک










