ایجنسیز
جموں؍۱۸مئی
قائدِ حزبِ اختلاف سنیل کمار شرما نے پیر کے روز کہا کہ ایوان کی کمیٹیوں کے چیئرمینوں کی تقرری کے معاملے پر اسپیکر عبدالرحیم راتھر کی وضاحت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے تحفظات کا جواب دینے کے بجائے مبینہ بے ضابطگیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایوان کی چھ غیر مالیاتی کمیٹیوں کے سربراہان کی تقرری کے لیے اسپیکر کو حاصل اختیارات جماعتی مفادات کے تحت استعمال نہیں کیے جا سکتے بلکہ انہیں انصاف اور دیرینہ پارلیمانی روایات کے مطابق بروئے کار لایا جانا چاہیے۔
اسپیکر کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے شرما نے کہا کہ ایسا تاثر دینے کی کوشش کی گئی جیسے وہ تین مالیاتی کمیٹیوں کی تشکیل کے عمل سے ناواقف تھے۔
شرما نے کہا کہ جمعہ کے روز میڈیا کو جاری اپنے بیان میں انہوں نے واضح طور پر ذکر کیا تھا کہ اپوزیشن کو چھ غیر مالیاتی کمیٹیوں کے چیئرمین مقرر کرنے کے عمل میں نظر انداز کیا گیا ہے۔
ایل او پی نے کہا کہ اسپیکر کا یہ دعویٰ کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے چیئرمین کا عہدہ بی جے پی کو دیا گیا ہے، پارٹی پر کوئی احسان نہیں بلکہ ملک بھر میں ایک مستحکم پارلیمانی روایت ہے۔ انہوں نے کہا، ’’پارلیمنٹ ہو، ریاستیں ہوں یا قانون ساز اسمبلیوں والے مرکز کے زیر انتظام علاقے، پی اے سی کے چیئرمین کا عہدہ ہمیشہ اپوزیشن کے پاس رہا ہے۔‘‘
شرما نے کہا کہ اسپیکر کا یہ مؤقف بھی قابلِ سوال ہے کہ بی جے پی کے سینئر اراکین کو مالیاتی کمیٹیوں میں شامل کیے جانے کے باعث انہیں دیگر کمیٹیوں کی سربراہی نہیں دی جا سکتی تھی، جبکہ یہی معیار حکمراں اتحاد پر لاگو نہیں کیا گیا، جہاں پہلی بار منتخب ہونے والے اراکین اسمبلی کو ایوانی کمیٹیوں کا سربراہ بنایا گیا ہے۔
شرما نے کہا، ’’بی جے پی کے کئی ایسے اراکین اسمبلی ہیں جو دوسری مرتبہ منتخب ہوئے ہیں اور مالیاتی کمیٹیوں کا حصہ بھی نہیں ہیں، لیکن اس کے باوجود اسپیکر نے حکمراں اتحاد کے پہلی مرتبہ منتخب ہونے والے اراکین کو غیر مالیاتی کمیٹیوں کی سربراہی سونپ دی ہے۔‘‘
شرما نے کہا کہ اگرچہ اسپیکر کو غیر مالیاتی کمیٹیوں کے چیئرمین اور اراکین نامزد کرنے کا اختیار حاصل ہے، تاہم یہ صوابدید جماعتی مفادات کی بنیاد پر استعمال نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے متناسب نمائندگی اور قائم شدہ پارلیمانی روایات کے اصولوں کے مطابق بروئے کار لایا جانا چاہیے۔
بی جے پہ لیڈر نے کہا، ’’کمیٹیوں کے چیئرمین متناسب نمائندگی کے اصول کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں۔‘‘










