جموں؍۱۶مئی
جموں میونسپل کارپوریشن (جے ایم سی) کے کمشنر ڈاکٹر دیوانش یادو نے مردم شماری۲۰۲۷ کو پندرہ برس بعد ہونے والی ایک ’’تاریخی‘‘ مشق قرار دیتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس عمل میں بھرپور حصہ لیں تاکہ سرکاری فلاحی اسکیموں کی رسائی بڑھائی جا سکے اور خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
جموں شہر میں اس عمل کے لیے۱۲۰۰سے زائد شمار کنندگان (انیومریٹرز) تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ سیلف انیومریشن کی سہولت۱۷مئی سے شروع ہوگی۔ کمشنر نے مردم شماری۲۰۲۷ سے متعلق مختلف پہلوؤں کی وضاحت بھی کی۔انہوں نے کہا کہ عوام کو اس عمل کو شہریت کے لیے خطرہ نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ مردم شماری کا تعلق شہریت یا قانونی رہائش کی توثیق سے نہیں ہے۔
یادو نے نامہ نگاروں کو بتایا، ’’جموں شہر، جس کی آبادی تقریباً آٹھ لاکھ ہے،۷۵ وارڈز، تقریباً۱۵ آؤٹ گروتھ علاقوں اور کچھ کچی آبادیوں پر مشتمل ہے۔ ان تمام علاقوں میں جموں میونسپل کارپوریشن کی ٹیمیں، جن میں۱۲۰۰سے زائد شمار کنندگان شامل ہیں، مردم شماری انجام دیں گی۔‘‘
انہوں نے کہا کہ سیلف انیومریشن ونڈو۱۷ مئی سے۳۱مئی تک کھلی رہے گی، جس دوران شہری سرکاری مردم شماری پورٹل پر ون ٹائم او ٹی پی پر مبنی رجسٹریشن کے ذریعے اپنے گھرانوں کی تفصیلات اپ لوڈ کر سکیں گے۔
یادو نے کہا، ’’سیلف انیومریشن کا فائدہ یہ ہے کہ جب جون میں جے ایم سی کی ٹیمیں گھروں کا دورہ کریں گی تو پہلے سے جمع شدہ معلومات خودکار طریقے سے حاصل کی جا سکیں گی، جس سے ڈیٹا جمع کرنے میں وقت کم لگے گا اور غلطیوں کے امکانات بھی کم ہوں گے۔‘‘
کمشنر نے یقین دہانی کرائی کہ مردم شماری کے دوران حاصل کی گئی تمام معلومات خفیہ رکھی جائیں گی۔انہوں نے بتایا کہ تمام اراکین اسمبلی کو ’’مردم شماری سفیر‘‘ مقرر کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنے حلقوں میں بیداری پیدا کریں۔
یادو نے کہا کہ یکم جون سے۳۰جون تک جاری رہنے والی فیلڈ مشق کے دوران مکمل کوریج کو یقینی بنایا جائے گا، اور عوام سے اپیل کی کہ اگر مردم شماری ٹیمیں کسی علاقے تک نہ پہنچ سکیں تو وہ جے ایم سی ہیلپ لائن نمبروں پر رابطہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ شمار کنندگان کی تربیت کے لیے وسیع تربیتی سیشن جاری ہیں اور فیلڈ آپریشن شروع ہونے سے قبل ایک اور مرحلہ وار تربیت دی جائے گی تاکہ اس عمل کو مؤثر طریقے سے انجام دیا جا سکے۔’’یہ معلومات صرف سرکاری فلاحی اسکیموں کے نفاذ کے لیے استعمال ہوں گی اور ان کا انکم ٹیکس یا کسی دوسرے قانون سے کوئی تعلق نہیں ہوگا،‘‘ انہوں نے واضح کیا۔
یادو نے کہا کہ جون میں صرف ہاؤس لسٹنگ کا عمل ہوگا، جبکہ اصل آبادی کی مردم شماری اگلے سال فروری میں کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ تقریباً۵۰ہزار بیداری پرچے گھر گھر تقسیم کیے جا رہے ہیں تاکہ لوگوں کو مردم شماری کے طریقہ کار سے آگاہ کیا جا سکے اور ان کی شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایک سوال کے جواب میں کمشنر نے کہا کہ اس مشق کے دوران ذات پات اور سماجی و معاشی تفصیلات بھی جمع کی جائیں گی۔انہوں نے کہا، ’’بجلی کی دستیابی، پکا مکان، ریفریجریٹر، ٹیلی ویژن، دو پہیہ گاڑیاں اور دیگر سہولیات سے متعلق معلومات جمع کی جائیں گی تاکہ گھرانوں کی سماجی و معاشی حالت کا اندازہ لگایا جا سکے۔‘‘انہوں نے ایک بار پھر یقین دلایا کہ تمام معلومات سختی سے خفیہ رکھی جائیں گی۔
دور دراز علاقوں میں بیداری اور لوگوں میں ذاتی معلومات شیئر کرنے سے متعلق خدشات پر یادو نے کہا کہ غلط معلومات اور فیک نیوز کا مقابلہ کرنے میں میڈیا کا اہم کردار ہے۔
یادو نے کہا، ’’یہ کام قومی مفاد میں کیا جا رہا ہے اور لوگوں کو اس حوالے سے کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ عوام کا اعتماد بڑھانے کے لیے سینئر سیاسی رہنما، ججز اور اعلیٰ افسران خود بھی سیلف انیومریشن کا آغاز کریں گے۔
شہریت سے متعلق خدشات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مردم شماری کا عمل شہریت یا قانونی رہائش کی توثیق سے وابستہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا، ’’یہ صرف زمینی صورتحال کا جائزہ ہے۔ اس کا مطلب شہریت کی منظوری نہیں ہے۔‘‘
یادو نے کہا کہ لوگ وہی معلومات فراہم کریں جہاں وہ رہائش پذیر ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جو افراد گزشتہ چھ ماہ سے کسی مقام پر مقیم ہیں اور آئندہ چھ ماہ تک وہیں رہنے کی توقع رکھتے ہیں، انہیں اسی حساب سے شمار کیا جائے گا۔
ایک مشاورتی ہدایت جاری کرتے ہوئے یادو نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سیلف انیومریشن کے لیے صرف سرکاری مردم شماری ویب سائٹ استعمال کریں اور ایس ایم ایس یا دیگر ذرائع سے موصول ہونے والے مشتبہ لنکس کھولنے سے گریز کریں۔
یادو نے کہا، ’’سیلف انیومریشن کے لیے کسی قسم کی ادائیگی درکار نہیں ہوگی۔ رجسٹریشن کے لیے صرف او ٹی پی استعمال کیا جائے گا۔‘‘انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ صرف تصدیق شدہ اور محفوظ سرکاری لنکس ہی شیئر کریں۔ (ایجنسیاں)










