نئی دہلی، 15 مئی (یو این آئی) جمعہ کے روز پیٹرول، ڈیزیل اور سی این جی کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے پر صنعتی شعبے کا ماننا ہے کہ اس سے روزمرہ کی اشیاء کی قیمتیں بڑھیں گی، تاہم مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے پیشِ نظر ملک کے مفاد میں یہ قدم اٹھانا ضروری تھا۔
تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں نے آج سے پیٹرول اور ڈیزیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ قومی دارالحکومت دہلی میں دونوں ایندھنوں کی قیمتوں میں تین تین روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دہلی اور قریبی شہروں میں گیس سپلائی کرنے والی کمپنی اندر پرستھ گیس نے بھی سی این جی کی قیمت دو روپے فی کلوگرام بڑھا دی ہے۔
ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر ردِعمل دیتے ہوئے انفومیرکس ریٹنگز کے چیف اکانومسٹ منورنجن شرما نے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزیل کی قیمتوں میں آج ہونے والا تین تین روپے کا اضافہ پہلے سے متوقع تھا۔ یہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایندھن کے دام بڑھنے سے نقل و حمل (ٹرانسپورٹ) اور پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں تمام ضروری اشیاء مہنگی ہوں گی اور افراطِ زر (مہنگائی) کی شرح بڑھے گی۔
مسٹر شرما نے واضح کیا کہ اپنی ضرورت کا 85 فیصد خام تیل درآمد کرنے والے ہندوستان کے لیے زرمبادلہ کے ذخائر اور مالیاتی استحکام کے درمیان توازن برقرار رکھنا لازمی ہے، کیونکہ کمزور ہوتے ہوئے روپے کی وجہ سے درآمدات کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔
ادھر روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے جمعہ کو کہا کہ روسی پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی بڑھانے کے لیے روس اور ہندوستان مکمل طور پر پرعزم ہیں۔
مسٹر لاوروف نے برکس ممالک کی میٹنگ کے بعد اپنے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں ممالک پیٹرولیم مصنوعات، کھادوں کی سپلائی بڑھانے اور پرامن جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، ہندوستان میں ایٹمی بجلی گھر کے اضافی بلاکس کی تعمیر اور تجارت و سرمایہ کاری کے تعاون پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور تکنیکی تعاون ہمیشہ کی طرح اعلیٰ سطح پر ہے، جس کے تحت جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی پر مبنی جدید ہتھیاروں کی مشترکہ پیداوار کی جا رہی ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ وزیر اعظم نریندر مودی سال 2026 میں روس کا دورہ کریں گے اور دونوں فریق اس سربراہ اجلاس کی تیاریاں کر رہے ہیں۔
مسٹر لاوروف نے مشورہ دیا کہ موجودہ برکس صدر ہونے کے ناطے ہندوستان اپنی توانائی کی ضروریات اور علاقائی انحصار کو مدنظر رکھتے ہوئے ایران اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی حملے کا مقصد اسے دیگر عرب ممالک کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے سے روکنا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین اور امریکہ-چین تجارتی تعلقات پر مسٹر لاوروف نے کہا کہ روس تیسرے ممالک کے باہمی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا اور وہ ‘پھوٹ ڈالو اور راج کرو’ کی مغربی سیاست کا حصہ نہیں بنے گا۔










