بیجنگ، 14 مئی (یو این آئی): چین کے صدر شی جن پنگ نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کے ابھرتے ہوئے مرحلے کو زیادہ مستحکم اور منظم مسابقت کا نیا دور قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، صدر شی نے تائیوان کے معاملے پر سخت وارننگ دیتے ہوئے اسے دوطرفہ تعلقات میں سب سے زیادہ حساس اور خطرناک مسئلہ قرار دیا ہے۔
چینی صدر نے یہ تبصرہ بیجنگ کے ‘گریٹ ہال آف دی پیپل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک تاریخی دوطرفہ سربراہی اجلاس کے آغاز پر کیے۔ 2017 کے بعد چین میں دونوں رہنماؤں کی یہ پہلی آمنے سامنے ملاقات تھی ۔
یہ سربراہی اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عالمی سطح پر تناؤ کا ماحول ہے۔ اس میں ایران میں جاری جنگ، توانائی کی منڈیوں میں عدم استحکام اور امریکہ و چین کے درمیان بڑھتی ہوئی اقتصادی مسابقت شامل ہے۔ بات چیت کے اہم موضوعات میں تجارت اور ٹیرف (محصولات) کو مستحکم کرنا، امریکی منڈیوں تک چین کی رسائی اور چین میں امریکی کمپنیوں کی توسیع، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مقابلہ، چین کی الیکٹرک گاڑیوں کی برآمدات اور عالمی آٹو انڈسٹری پر اس کے اثرات، اور توانائی کی حفاظت اور ایران کی تیل کی برآمدات جیسے موضوعات شامل ہیں۔ ایران کی تیل کی برآمدات کے معاملے میں چین کا گہرا اثر و رسوخ ہے اور اس معاملے پر دونوں عالمی طاقتیں اپنا کردار ادا کریں گی۔
یہ ملاقات ایران جنگ کے سائے میں ہو رہی ہے، جس میں دونوں ممالک کے رہنما وسیع تر جیو پولیٹیکل (جغرافیائی و سیاسی) مساوات اور دو عظیم طاقتوں کے درمیان کنٹرولڈ مسابقت پر تبادلہ خیال کریں گے۔ صدر شی نے زور دیا کہ جہاں دونوں ممالک کو استحکام اور تعاون کی سمت آگے بڑھنا چاہیے، وہیں تائیوان چین کے لیے سب سے اہم تشویش کا موضوع ہے اور چین-امریکہ تعلقات میں سب سے اہم مسئلہ ہے۔ انہوں نے اسے ایک ریڈ لائن قرار دیا جو دونوں ممالک کے تعلقات کی مستقبل کی سمت طے کر سکتی ہے۔
تناؤ کے باوجود صدر شی نے کہا کہ بڑھتی ہوئی عالمی غیر یقینی صورتحال کے درمیان چین اور امریکہ کو ایک دوسرے کا مخالف بننے کے بجائے شراکت دار کے طور پر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ مجموعی استحکام برقرار رکھنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کو حل کیا جا سکتا ہے۔ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق، دونوں فریقین نے مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی پیش رفت اور بین الاقوامی توانائی کے راستوں میں آنے والی رکاوٹوں پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
صدر ٹرمپ اپنے ساتھ سینئر حکام اور امریکی کاروباری شخصیات کا ایک بڑا وفد لے کر آئے تھے، جو ممکنہ سرمایہ کاری اور تجارتی معاہدوں پر ان کی خاص توجہ کا اشارہ ہے۔ اس وفد میں ان کی کابینہ اور اقتصادی ٹیم کے کلیدی ارکان شامل تھے، جو اس سربراہی اجلاس کی بڑی معاشی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
صدر شی کے ساتھ عوامی طور پر موجودگی کے دوران، ٹرمپ نے تائیوان کے حوالے سے صحافیوں کے سوالات کا براہ راست جواب نہیں دیا۔ انہوں نے صرف اتنا کہا کہ تعاون سے دونوں فریقین کو فائدہ پہنچتا ہے، جبکہ محاذ آرائی سے دونوں کو نقصان ہوتا ہے۔ انہوں نے اقتصادی تعلقات کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور دونوں ممالک کے تعلقات کے حوالے سے پر امید رویے کا اظہار کیا۔








