واشنگٹن، 12 مئی (یو این آئی) وائٹ ہاؤس کی نائب ترجمان این کیلی نے کہا ہے کہ ایران کے معاملے پر امریکی صدر مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے تمام متبادل موجود ہیں۔ فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے این کیلی نے کہا کہ ایران کو اپنی موجودہ بدترین صورتحال کی حقیقت کو سمجھنا چاہیے۔
دوسری جانب امریکی صدر مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز میں ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کو ’’انتہائی کمزور‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ’’وینٹی لیٹر پر ہے‘‘۔
امریکی صدر نے کہا، ’’ایران کے پاگل لوگ جوہری ہتھیار حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن ایسا ہرگز نہیں ہونے دیا جائے گا۔‘‘
انہوں نے واشنگٹن کی جانب سے فوجی کارروائیاں ختم کرنے کی تجاویز پر تہران کے نئے ردعمل کو ’’فضول‘‘ اور ’’غیر سنجیدہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اس وقت اپنی کمزور ترین حالت میں ہے۔
مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوکس نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ امریکہ ایران پر دباؤ اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران بالآخر ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو جائے گا جبکہ ایرانی مذاکرات کار خود اعتراف کر چکے ہیں کہ انہیں جوہری ذخائر سے متعلق معاملات میں امریکہ کی ٹیکنالوجی درکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں اس کا دائرہ صرف بحری جہازوں کے تحفظ تک محدود نہیں رہے گا۔
سی بی ایس کو دیے گئے ایک اور انٹرویو میں امریکی صدر نے کہا کہ انہیں پہلے سے علم تھا کہ ایران آبنائے ہرمز بند کرنے کی کوشش کرے گا کیونکہ یہی اس کے پاس واحد ’’ہتھیار‘‘ ہے۔
انہوں نے ایران کے خلاف بحری دباؤ کو ’’انتہائی ذہین منصوبہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ٹرمپ کے مطابق ایران نے حالیہ ہفتوں میں اپنی صلاحیتیں بحال کرنے کی کوشش کی تاہم اس کی تجاویز ناقابل قبول تھیں، جبکہ اب تہران مذاکرات کی طرف مائل دکھائی دے رہا ہے کیونکہ اسے اپنی قیادت میں نمایاں نقصان اٹھانا پڑا ہے۔








