تو صاحب کہنے والوں کاکہنا ہے کہ جہاں چاہ وہاں راہ …….دوسرے الفاظ میں جہاں چاہ نہیں وہاں راہ نہیں ‘ بالکل بھی نہیں اور ……. اور ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اپنے گورے گورے بانکے چھورے وزیراعلیٰ ‘عمرعبداللہ میں چاہ نہیں ہے ‘ اس لئے ان کے پاس کوئی راہ نہیں ہے……. بالکل بھی نہیں ہے ۔ہاں ہم مانتے ہیں اور سو فیصد مانتے ہیں کہ عمرعبداللہ ایک یو ٹی کے وزیر اعلیٰ ہیں ‘ لیکن وزیرا علیٰ تو ہیں ……. بالکل اسی طرح جس طرح تمل ناڈو کے وجے بابو وزیر اعلیٰ ہیں ……. دو دن سے وزیر اعلیٰ ہیں اور…….اور ان دو دنوں میں وجے بابو نے کیا کیا ‘انہوں نے انتظار نہیں کیا ……. بالکل بھی نہیں کیا اور مفت بجلی کا اعلان کیا ……. وہ اعلان جو انہوں نے الیکشن کے دوران لوگوں سے کیا تھا …….وجے بابو نے انتظار نہیں کیا ‘ سمارٹ میٹروں کی تنصیب کا انتظار کیا اور نہ کسی اور بات کا انتظار کیا ……. بس قلم اٹھایا اور مفت بجلی کا اعلان کیا ……. اورکیا کیا ‘ یہ کیا کہ ……. کہ شراب کی سرکاری دکانوں کو بند کرنے کا اعلان کیا ……. شراب پر یوں سمجھ لیجئے پابندی عائد کی ……وجے بابونے یہ نہیں دیکھا ‘ یہ نہیں سوچا کہ اگر انہوں نے شراب بند کی تو ……. تو ریاست کو اس سے سالانہ ۴۸ہزار کروڑ روپے ……. جی ہاں ۴۸ ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہو گا ……. انہوں نے یہ نہیں سوچا ‘ بالکل بھی نہیں سوچا ۔ بس قلم اٹھالیا اور بندش کا اعلان نامہ جاری کردیا اور …….اور یہاں اپنے گورے گورے بانکے چھورے وزیر اعلیٰ کے والد گرامی ہیں ‘جن کا کہنا ہے کہ اگر مرکز جموں کشمیر میں شراب پر عائد پابندی سے ہونے والے نقصان کی بھر پائی کرے گا تو ……. تو حکومت دو منٹوں میں اس پر پابندی عائد کر دے گی۔ اور سرکار ……. جموںکشمیر سرکار کو سالانہ شراب سے ۴۵۰ کروڑ روپے سے زیادہ کی آمدنی نہیں ہو تی ہے ……. بالکل بھی نہیں ہو تی ۔ کہاں تمل ناڈو کے ۴۸ ہزار کروڑ اور کہاں ۴۵۰ کروڑ ۔تو صاحب سوال یہ ہے …….آپ ڈرئے مت بڑا نہیں ایک چھوٹا سا سوال ہے کہ وجے بابو اتنی چھوٹی سی مدت ‘بھلا دو دن بھی کوئی مدت ہو تی ہے ……. تو اس چھوٹی سی مدت میں وجے بابو اتنے بڑے بڑے فیصلے کیوں لے رہے ہیں اور ……. اور اللہ میاں کی قسم ان کے فیصلوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے اور بالکل بھی نہیں ہے کہ وہ ایک ریاست کے وزیر اعلیٰ ہیں……. وجے بابو اتنے بڑے فیصلے اس لئے لے رہے ہیں کیوں کہ ان کے پاس چاہ ہے اور جہاں چاہ ہے وہاں راہ بھی ہو تی ہے ……. سو فیصد ہو تی ہے ۔ ہے نا؟



