آپریشن سندور کے دوران چین کی پاکستان کی حمایت پر بھارت کا ردِعمل
ایجنسیز
نئی دہلی؍۱۲مئی
بھارت نے منگل کو کہا کہ آپریشن سندور کے دوران چین کی جانب سے پاکستان کی حمایت سے متعلق رپورٹس اُن باتوں کی تصدیق کرتی ہیں جو پہلے سے معلوم تھیں، اور جو ممالک خود کو ذمہ دار سمجھتے ہیں اُنہیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو بچانے کی کوششوں کی حمایت ان کی ساکھ پر کیا اثر ڈالتی ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان‘رندھیر جیسوال نے یہ بیان اُس سوال کے جواب میں دیا جو چینی سرکاری میڈیا کی اُن رپورٹس کے حوالے سے پوچھا گیا تھا جن میں اعتراف کیا گیا کہ بیجنگ نے مئی۲۰۲۵میں بھارت کی جانب سے پہلگام دہشت گرد حملوں کے بدلے میں کیے گئے آپریشن سندور کے دوران پاکستان کو تکنیکی مدد فراہم کی تھی۔
جیسوال نے پریس بریفنگ میں کہا’’ہم نے یہ رپورٹس دیکھی ہیں جو اُن باتوں کی تصدیق کرتی ہیں جو پہلے سے معلوم تھیں۔ آپریشن سندور پہلگام میں دہشت گرد حملوں کے جواب میں ایک درست، ہدفی اور متوازن کارروائی تھی، جس کا مقصد پاکستان سے چلنے والے اور اُس کی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردی کے ڈھانچے کو تباہ کرنا تھا‘‘۔
ترجمان نے کہا’’جو ممالک خود کو ذمہ دار سمجھتے ہیں، اُنہیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ دہشت گردی کے ڈھانچے کو تحفظ دینے کی کوششوں کی حمایت کرنا اُن کی ساکھ اور عالمی حیثیت کو متاثر کرتا ہے یا نہیں‘‘۔
گزشتہ ہفتے چین نے پہلی بار اس بات کی تصدیق کی کہ اُس نے بھارت کے ساتھ چار روزہ تنازع کے دوران پاکستان کو موقع پر تکنیکی مدد فراہم کی تھی، جیسا کہ چینی سرکاری میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا۔
چین کے سرکاری نشریاتی ادارے‘سی سی ٹی وی نے جمعرات کو ایوی ایشن انڈسٹری کارپوریشن آف چائنا(اے وی آئی سی )کے چینگڈو ایئرکرافٹ ڈیزائن اینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے انجینئر ژانگ ہینگ کا انٹرویو نشر کیا، جو چین کے جدید لڑاکا طیاروں اور بغیر پائلٹ فضائی گاڑیوں کے ڈیزائن کی تیاری کا ایک اہم ادارہ ہے۔
ہانگ کانگ میں قائم اخبار ’ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ‘نے سی سی ٹی وی کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ژانگ نے گزشتہ مئی میں ہونے والی چار روزہ جنگ کے دوران پاکستان کو تکنیکی معاونت فراہم کی تھی۔
پاکستان کی فضائیہ چینی ساختہ جے ۱۰ سی ای لڑاکا طیاروں کا بیڑا استعمال کرتی ہے، جو اے وی آئی سی کے ایک ذیلی ادارے کی جانب سے تیار کیے جاتے ہیں۔ (ایجنسیاں)










