تل ابیب، 11 مئی (یواین آئی) اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اُس وقت تک “ختم نہیں ہوگی” جب تک اہم اسٹریٹجک مسائل کا حل نہیں نکل آتا، جن میں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو ہٹانا، جوہری مراکز کو تباہ کرنا اور ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کو محدود کرنا شامل ہے۔
سی بی ایس نیوز کے پروگرام ’60 منٹس‘ کو دیے گئے انٹرویو میں مسٹر نیتن یاہو نے کہاکہ “یہ ابھی ختم نہیں ہوا، کیونکہ وہاں اب بھی جوہری مواد اور افزودہ یورینیم موجود ہے۔ اسے ایران سے باہر نکالنا ہوگا۔ وہاں اب بھی افزودگی کے مراکز موجود ہیں، جنہیں تباہ کرنا باقی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ایران اب بھی علاقائی پراکسی گروپوں کی حمایت کر رہا ہے اور اپنی بیلسٹک میزائل صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ہونے والی پیش رفت کو تسلیم کرتے ہوئے مسٹر نیتن یاہو نے زور دیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اب بھی بڑے چیلنجز موجود ہیں۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ کسی بھی عملی معاہدے کے تحت افزودہ یورینیم کو وہاں سے ہٹانا ضروری ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ “اگر آپ کے پاس کوئی معاہدہ ہے اور آپ اندر جا کر اسے باہر نکال لیتے ہیں تو کیوں نہیں؟ یہی بہترین طریقہ ہے۔”
مسٹر نیتن یاہو اس بات سے متفق ہیں کہ معاہدہ ہونا چاہیے، لیکن جوہری مسئلہ قابلِ سمجھوتہ نہیں ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ کا مؤقف ہے کہ کسی بھی جامع امن معاہدے کے تحت ایران کو یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر روکنی ہوگی۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے حال ہی میں امن تجویز پر ایران کے تازہ ردعمل کو “مکمل طور پر ناقابلِ قبول” قرار دیا تھا۔
دوسری جانب ایران نے افزودگی مکمل طور پر روکنے کے مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی حکام نے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو کم کرنے اور کچھ مواد کو بین الاقوامی نگرانی میں کسی تیسرے ملک منتقل کرنے کی تجویز دی ہے۔
مسٹر نیتن یاہو نے ایک ممکنہ حکمت عملی کا خاکہ بھی پیش کیا، جس کے مطابق اگر سفارت کاری ناکام ہو جاتی ہے تو افزودہ یورینیم کو جسمانی طور پر ہٹایا جا سکتا ہے، تاہم انہوں نے “فوجی آپشنز” کی تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے محدود مدت کے لیے افزودگی معطل کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے، اگرچہ یہ مدت امریکہ کی تجویز کردہ 20 سالہ پابندی سے کم ہوگی۔ ساتھ ہی ایران نے اپنے جوہری انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کی بات مسترد کر دی ہے۔








