ریاستی درجے کی بحالی‘ ٹرانزیکشن آف بزنس رولز‘ ریزرویشن کے نظام میں معقولیت سمیت معتدد اشوز پر بات
جموں و کشمیر کی موجودہ سیکورٹی اور اقتصادی صورتحال پر بھی غور کیا گیا‘عوام کی ہمہ گیر ترقی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا:ترجمان
نئی دہلی؍۱۱مئی
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی، جس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان مرکز کے زیر انتظام علاقے جموں و کشمیر سے متعلق مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ایک سرکاری ترجمان کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے کئی اہم معاملات پر گفتگو کی جن میں ریاستی درجے کی بحالی، ٹرانزیکشن آف بزنس رولز، ریزرویشن کے نظام میں معقولیت پیدا کرنے سمیت جموں و کشمیر سے متعلق دیگر اہم انتظامی اور عوامی فلاحی امور شامل تھے۔
ملاقات میں جموں و کشمیر کی موجودہ سیکورٹی اور اقتصادی صورتحال پر بھی غور کیا گیا، جبکہ خطے میں پائیدار امن، استحکام اور عوام کی ہمہ گیر ترقی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے گورننس سے متعلق مسائل کو حل کرنے اور عوامی امنگوں کو پورا کرنے کے لیے ترقیاتی اور فلاحی اقدامات میں تیزی لانے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
عمرعبداللہ نے عوامی مفاد کے معاملات پر مرکز اور جموں و کشمیر حکومت کے درمیان مسلسل تال میل برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ترجمان کے مطابق یہ بات چیت خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں گورننس کو مضبوط بنانے، عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے اور خطے میں دیرپا امن و خوشحالی کو یقینی بنانے سے متعلق مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اس سے پہلے قومی دارالحکومت روانہ ہونے سے قبل سری نگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ وہ جموں و کشمیر سے متعلق تمام معاملات پر بات کریں گے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’کاش ایک ہی ملاقات میں ہمیں ریاستی درجہ مل جاتا۔ اگر ایسا ہوتا تو ہمیں یہ بہت پہلے مل چکا ہوتا۔ لیکن ہاں، میں اس ملاقات میں ریاستی درجہ، بزنس رولز اور جموں و کشمیر سے متعلق دیگر معاملات اٹھاؤں گا‘‘۔
عمر عبداللہ نے یہ بھی کہا کہ عوامی تحفظ کے معاملات میں لیفٹیننٹ گورنر کو ٹیلی کام اختیارات دینا’’غلط نہیں‘‘کیونکہ امن و قانون اور سکیورٹی کی ذمہ داری انہی کے پاس ہے۔
وزیر اعلیٰ نے صحافیوں سے کہا’’یہ بالکل درست فیصلہ ہے۔ یہ اختیارات لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہونے چاہئیں۔ یہ نہ بزنس رولز کے خلاف ہے اور نہ ہی ری آرگنائزیشن ایکٹ کے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ فون سروس یا انٹرنیٹ بند کرنے کے احکامات محکمہ داخلہ جاری کرتا ہے، جو لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے مرکز نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کو عوامی تحفظ کے واقعات یا قومی ہنگامی حالات کے دوران ٹیلی کام خدمات سے متعلق اختیارات، جیسے سگنلز کی نگرانی، خدمات کی معطلی اور پیغامات کی ڈی کرپشن کے اختیارات تفویض کیے تھے۔
جمعرات کو جاری کردہ حکم نامے کے مطابق صدرِ جمہوریہ نے لیفٹیننٹ گورنر کو ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ۲۰۲۳ کی دفعہ۲۰(۲)کے تحت ریاستی حکومت کے اختیارات استعمال کرنے اور فرائض انجام دینے کی ہدایت دی ہے، جو عوامی تحفظ اور قومی سلامتی سے متعلق صورتحال سے نمٹنے کے حوالے سے ہے۔
دریں اثنا نیشنل کانفرنس (این سی) کے ایک سینئر رہنما نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ۲۰۱۹ کے تحت تشکیل دیے جانے والے بزنس رولز اب تک وضع نہ ہونے کے باعث۲۰۲۴ میں منتخب حکومت کے قیام کے بعد سے انتظامی امور متاثر ہو رہے ہیں۔
’اد ہندو‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر این سی رہنما نے کہا’’متعدد محکموں میں وزیر اعلیٰ اور لیفٹیننٹ گورنر کے اختیارات اور کردار کی واضح حد بندی موجود نہیں، جس کی وجہ سے وزیر اعلیٰ کے لیے اپنا کردار ادا کرنا اور عوامی مسائل کے حل کے حوالے سے مؤثر حکمرانی فراہم کرنا مشکل ہو رہا ہے‘‘۔
ذرائع کے مطابق جموں و کشمیر حکومت مرکز کی جانب سے اُس تین رکنی تجویز کو حتمی منظوری ملنے کی بھی منتظر ہے، جو گزشتہ سال اپریل میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو ارسال کی گئی تھی۔
یہ رپورٹ موجودہ ریزرویشن پالیسی میں معقولیت پیدا کرنے کے مقصد سے تیار کی گئی تھی، کیونکہ اس پالیسی کے نتیجے میں سرکاری تعلیمی اداروں اور سرکاری محکموں میں اوپن میرٹ امیدواروں کے لیے نشستوں کا تناسب کم ہو کر۳۰ فیصد رہ گیا تھا۔
اکتوبر۲۰۲۴میں اقتدار سنبھالنے کے بعد عمر عبداللہ حکومت نے ایک تین رکنی ذیلی کمیٹی تشکیل دی تھی تاکہ ریزرویشن پالیسی کا جائزہ لے کر اوپن کیٹیگری کا حصہ بڑھا کر۵۰ فیصد کرنے کے لیے سفارشات پیش کی جا سکیں۔
ادھر جموں و کشمیر حکومت نے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے نئے ایڈووکیٹ جنرل (اے جی) کی تقرری سے متعلق فائل بھی آگے بڑھا دی ہے۔ ری آرگنائزیشن ایکٹ کے مطابق منتخب حکومت کو اے جی کی تقرری کے لیے تجویز ارسال کرنا لازمی ہے، تاہم اس کی منظوری راج بھون سے درکار ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ جموں و کشمیر میں سال۲۰۲۴سے ایڈووکیٹ جنرل کا عہدہ خالی پڑا ہے۔










