ویب ڈیسک
سرینگر؍۱۱مئی
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ‘ عمر عبداللہ نے پیر کے روز کہا کہ عوامی تحفظ کے معاملات میں لیفٹیننٹ گورنر کو ٹیلی کام اختیارات دینا غلط نہیں، کیونکہ امن و قانون اور سکیورٹی کی ذمہ داری انہی کے پاس ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا’’یہ بالکل درست فیصلہ ہے۔ یہ اختیارات لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہونے چاہئیں۔ یہ نہ بزنس رولز کے خلاف ہے اور نہ ہی ری آرگنائزیشن ایکٹ کے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ موبائل فون یا انٹرنیٹ خدمات معطل کرنے کے احکامات محکمہ داخلہ جاری کرتا ہے، جو لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا’’اگر موبائل فون یا انٹرنیٹ خدمات بند کرنے کی ضرورت پڑتی ہے تو اس کا حکم محکمہ داخلہ جاری کرے گا، جو ایل جی کی ذمہ داری ہے۔ اگر وہ بندوق چلانے کے لیے ہمارے کندھے کا سہارا لیں گے تو یہ ہمارے لیے مناسب نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں ہمارا کوئی کردار نہیں ہے‘‘۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ آئندہ ملاقات میں ریاستی درجے کے مسئلے کو اٹھانے سے متعلق سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ جموں و کشمیر سے متعلق تمام معاملات پر بات کریں گے۔
عمرعبداللہ نے کہا’’کاش ایک ہی ملاقات میں ہمیں ریاستی درجہ مل جاتا۔ اگر ایسا ہوتا تو ہمیں یہ بہت پہلے مل چکا ہوتا۔ لیکن ہاں، میں اس ملاقات میں ریاستی درجہ، بزنس رولز اور جموں و کشمیر سے متعلق دیگر معاملات اٹھاؤں گا‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر میں شراب پر پابندی کے مطالبے سے متعلق اپنے متنازعہ بیان کی وضاحت بھی پیش کی۔
عمرعبداللہ نے کہا’’یہ شراب کی دکانیں اُن لوگوں کے لیے ہیں جن کے مذہبی عقائد انہیں اس کی اجازت دیتے ہیں۔ ہمارے مذہبی عقائد اس کی اجازت نہیں دیتے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اپوزیشن میرے بیانات کو توڑ مروڑ کر الجھن پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے‘‘۔
اتوار کے روز گاندربل میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا تھا کہ شراب پینے والے اپنی مرضی سے ایسا کرتے ہیں، کسی کو زبردستی دکانوں تک نہیں لے جایا جاتا۔انہوں نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کو بتائیں کہ اقتدار میں رہتے ہوئے انہوں نے اس مسئلے پر کیا کیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’میں نے گاندربل میں اتوار کو وہی بات کہی جو ان (پی ڈی پی) کے وزیر خزانہ نے اسمبلی میں کہی تھی۔ ہم نے کوئی نئی شراب کی دکان نہیں کھولی، اور ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ یہ دکانیں ایسی جگہوں پر نہ ہوں جہاں ہمارے نوجوان گمراہ ہو سکتے ہوں‘‘۔
کابینہ میں توسیع کے بارے میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ مناسب وقت پر کی جائے گی۔
عمرعبداللہ نے کہا’’یہ معاملہ اپوزیشن اٹھا رہی ہے، مجھے نہیں معلوم وہ کیوں فکر مند ہیں۔ حکومت کا کام بخوبی چل رہا ہے۔ اگلا انتخاب ساڑھے تین سال بعد ہونا ہے۔ جب کابینہ میں توسیع یا رد و بدل کا وقت آئے گا تو میں پارٹی قیادت سے مشورہ کر کے مناسب وقت پر فیصلہ کروں گا۔‘‘










