نئی دہلی، 09 مئی (یواین آئی) عام آدمی پارٹی (عآپ) کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے ہفتہ کو کہا کہ مودی حکومت میں تفتیشی ایجنسیاں دوسری پارٹیوں کو توڑنے، ان کے لیڈروں کو ڈرانے دھمکانے اور انہیں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شامل کرانے کا کام کرتی ہیں۔
کیجریوال نے آج یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ پنجاب حکومت کے وزیر سنجیو اروڑہ کے گھر پر ای ڈی کے چھاپے پڑ رہے ہیں۔ ای ڈی کا کام یہ ہے کہ ملک کے اندر اگر کہیں منی لانڈرنگ ہو رہی ہے تو اسے روکنا اور اس کی جانچ کرنا۔ اگر اس مقصد سے ای ڈی اپنی کارروائی کرے تو ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہے، لیکن جب سے اس ملک کے اندر مودی جی کا راج آیا ہے، سی بی آئی بدعنوانی کو روکنے کے لیے کام نہیں کرتی اور نہ ہی ای ڈی منی لانڈرنگ روکنے کے لیے کام کرتی ہے۔ وہ صرف اور صرف دوسری پارٹیوں کو توڑنے، ان کے لیڈروں کو ڈرانے دھمکانے اور انہیں بی جے پی میں شامل کرانے کا کام کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سنجیو اروڑہ کے گھر ای ڈی کوئی منی لانڈرنگ کی جانچ کرنے نہیں آئی ہے، بلکہ گزشتہ ایک ماہ کے اندر ان کے یہاں ای ڈی کا یہ دوسرا چھاپہ ہے۔ اس سے پہلے 17 اپریل کو ای ڈی آئی تھی اور سنجیو اروڑہ کے گڑگاؤں، لدھیانہ اور دہلی کے تمام ٹھکانوں پر چھاپے مارے گئے تھے۔ وہ چھاپے تین دن چلے تھے۔ ان تین دنوں کی کارروائی میں ای ڈی کو ایسا کیا نہیں ملا جو آج ڈھونڈنے آئے ہیں؟ اسی وقت اشوک متل کے یہاں بھی چھاپہ مارا گیا تھا، وہاں بھی تین دن کارروائی چلی اور اس کے بعد اشوک متل نے بی جے پی جوائن کر لی۔ اس کے بعد ان کے یہاں چھاپے ختم ہو گئے اور ان کا سارا معاملہ رفع دفع ہو گیا۔
کیجریوال نے کہا کہ سنجیو اروڑہ نے بی جے پی جوائن نہیں کی۔ اس دن سنجیو اروڑہ پر کافی دباؤ ڈالا گیا کہ بی جے پی جوائن کر لو۔ اگر وہ اس دن بی جے پی میں شامل ہو جاتے تو شاید آج ای ڈی کا چھاپہ نہ پڑتا۔ آج ای ڈی کی کارروائی انہیں سبق سکھانے کے لیے ہوئی ہے کہ انہوں نے بی جے پی جوائن کیوں نہیں کی۔ یا تو بی جے پی جوائن کر لو، ورنہ گرفتار کر لیے جاؤ گے۔ اس لیے آج ای ڈی کا چھاپہ پڑا ہے۔ یہ بہت ہی دکھ کی بات ہے کہ مودی راج کے اندر ایجنسیوں کا کھلے عام غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی خاص طور پر پنجاب کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ پنجاب کے لوگوں کے ساتھ ناانصافی اور ظلم کیا جا رہا ہے۔ پنجاب کے لوگوں کو کچلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ گزشتہ چار سال سے دیہی ترقی کے ہزاروں کروڑ روپے، جن سے منڈیوں اور گاؤں گاؤں کی سڑکیں بننی ہوتی ہیں، وہ وزیراعظم نے روک دیے۔ پنجاب کی پنجاب یونیورسٹی کو قبضے میں لینے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ چنڈی گڑھ کو ہریانہ کو منتقل کرنے اور پنجاب سے چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پنجاب کے پانی پر ڈاکہ ڈالنے اور بی بی ایم بی کو ہتھیانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسے نہ جانے کتنے معاملات ہیں جہاں مرکزی حکومت پنجاب کے لوگوں کے ساتھ زیادتی کر رہی ہے۔ اب گزشتہ کچھ دنوں سے روز بس ایک ہی خبر ہے کہ آج ای ڈی نے یہاں چھاپہ مار دیا، آج وہاں چھاپہ مار دیا۔ جیسے ہی بنگال کے انتخابات ختم ہوئے، دہلی سے ای ڈی کی پوری ٹیم پنجاب کے اندر آ گئی ہے۔ ان کا مقصد کوئی کالا دھن یا منی لانڈرنگ ڈھونڈنا نہیں ہے۔










