’ مقامی انتخابات کے تئیں عوامی اعتماد کو مستقل نقصان پہنچایا‘
ویب ڈیسک
سرینگر؍۹مئی
پی ڈی پی کے چیف ترجمان اور سابق رکن پارلیمان ڈاکٹر محبوب بیگ نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور برسرِ اقتدار نیشنل کانفرنس کو۱۹۸۷کے انتخابات میں مبینہ انتخابی دھاندلی کے ذریعے عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے اور اسے مجروح کرنے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
پی ڈی پی کی بڈگام ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر بیگ نے۱۹۸۷کے انتخابی نتائج میں مبینہ ہیرا پھیری کو، جس کا الزام انہوں نے نیشنل کانفرنس پر عائد کیا، عام کشمیریوں میں بے چینی اور مایوسی کی بڑی وجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسی انتخابی عمل نے محمد یوسف شاہ کو سید صلاح الدین میں تبدیل کر دیا۔
ڈاکٹر بیگ نے کہا کہ اس مبینہ دھاندلی نے عوام کو ان کے جمہوری حقوق سے محروم کیا اور کشمیر میں مقامی انتخابات کے تئیں عوامی اعتماد کو مستقل نقصان پہنچایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اُس وقت کس نے کیا کردار ادا کیا، اس کی منصفانہ تحقیقات اب بھی اصل ذمہ داروں کو بے نقاب کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
پی ڈی پی ترجمان اعلیٰ نے عمر عبداللہ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ نئی دہلی میں بیٹھے لوگوں کو خوش کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، جبکہ اپنی ہی جماعت کے اُن اراکین اسمبلی کی آواز بھی دبا دیتے ہیں جو عوامی مسائل کو اُجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ڈاکٹر بیگ نے کہا’’ہر کشمیری کے لیے یہ بات توہین آمیز ہے کہ ایک ایسا وزیر اعلیٰ، جسے عوام نے ان کے دکھ درد اور مسائل کی جمہوری آواز بننے کے لیے منتخب کیا ہو، وہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کو خوش کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا نظر آئے۔‘‘
جلسے سے خطاب کرتے ہو ئے پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے عمرعبداللہ حکومت پر ’بے تحاشہ بدعنوانی‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مستحق نوجوانوں کو مواقع سے محروم رکھا جا رہا ہے جبکہ بھرتیوں میں سیاسی جانبداری کا غلبہ ہے۔
محبوبہ نے جبری کارروائی پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا’’عمر، اگر لوگوں کو بلڈوزر بابا پسند ہوتے تو وہ آپ کو ووٹ کیوں دیتے؟ لوگوں نے آپ کو ووٹ دیے اور۵۰؍ایم ایل ایز اس امید کے ساتھ منتخب کیا کہ آپ ان کا تحفظ کریں گے۔‘‘










