’دہشت گرد ماڈیولز سے متعلق معلومات کے تبادلے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے‘
سرینگر؍۷مئی
’’الگ تھلگ انداز میں کام کرنے‘‘ کے خلاف خبردار کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سیکورٹی نظام اور عوامی نمائندوں کے درمیان موجود خلیج کو اجاگر کیا ہے اور کہا ہے کہ خطے کو درپیش سیکورٹی چیلنجز کو صرف فوجی نقطۂ نظر سے حل نہیں کیا جا سکتا۔
گزشتہ سال پہلگام میں دہشت گردوں کے ہاتھوں۲۶؍ افراد کے قتل عام کے بعد کی صورتحال پر ایک خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور سیاحت کی بحالی کی پیچیدگیوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ منتخب حکومت کو قانون و نظم کے نظام سے ’مکمل طور پر الگ‘ رکھنے سے اہم معلومات کے تبادلے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’مسئلہ یہ ہے کہ آپ سیکورٹی صورتحال کو صرف سیکورٹی کے نقطۂ نظر سے دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسا کبھی بھی نہیں ہو سکتا۔ دہشت گردی کے اسباب اور اس کے اثرات دونوں کا وسیع سماجی حلقے سے تعلق ہوتا ہے۔‘‘انہوں نے کہا، ’’اور جب آپ الگ الگ خانوں میں کام کرتے ہیں، جب منتخب حکومت اور عوامی نمائندوں کو سیکورٹی اور قانون و نظم کے نظام سے مکمل طور پر الگ رکھا جاتا ہے، تو پھر ایسی ہی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے حال ہی میں سری نگر پولیس کی جانب سے کئی ماہ تک پوشیدہ رہنے والے دہشت گرد ماڈیولز کے بے نقاب کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بات کہی۔
قانون و نظم کے نظام اور عوامی نمائندوں کے درمیان موجود خلیج پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ایک پولیس افسر کے لیے کسی منتخب نمائندے کو سلام کرنا بھی پیشہ ورانہ تشویش کا باعث بن گیا ہے۔انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’آج ایک پولیس افسر کسی ایم ایل اے، وزیر یا وزیر اعلیٰ کو سلام کرنے سے پہلے دو بار سوچتا ہے… پہلے وہ سوچتا ہے کہ سلام کرنا چاہیے یا نہیں، پھر اگر ہمت کر کے سلام کر بھی لے تو دائیں بائیں دیکھتا ہے کہ کسی نے دیکھ تو نہیں لیا؟ کہیں میری نوکری خطرے میں نہ پڑ جائے۔ یہی صورتحال ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ جب پولیس کو یہ بھی معلوم نہ ہو کہ انہیں منتخب حکومت کی کسی شہری تقریب کا حصہ بننا چاہیے یا نہیں، تو معلومات کا تبادلہ بھی متاثر ہوتا ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’میں پھر یہی بات دہراتا ہوں کہ آپ دہشت گردی یا قانون و نظم کے مسئلے کو صرف سیکورٹی کے زاویے سے نہیں دیکھ سکتے۔ مثال کے طور پر آج کل ایل جی (منوج سنہا) نشہ مُکت ابھیان چلا رہے ہیں۔ منشیات کی اسمگلنگ بنیادی طور پر ایک سیکورٹی اور نفاذِ قانون کا مسئلہ ہے، یعنی منشیات کو جموں و کشمیر میں داخل ہونے سے روکنا۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’لیکن پھر وہ فٹ مارچ کیوں کر رہے ہیں؟ عام لوگوں کو کیوں شامل کیا جا رہا ہے؟ کیونکہ یہ صرف قانون و نظم کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی مسئلہ بھی ہے جس کے کچھ پہلو قانون و نظم سے جڑے ہوئے ہیں۔ دہشت گردی کے معاملے میں بھی یہی بات درست ہے۔ یہ قانون و نظم اور سیکورٹی کا مسئلہ ضرور ہے، مگر صرف سیکورٹی کا مسئلہ نہیں۔‘‘
دہشت گرد ماڈیولز میں اضافے اور انٹیلی جنس جمع کرنے کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے ایک تلخ حقیقت بیان کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے اپنی انٹیلی جنس ٹوئٹر (ایکس) سے ملتی ہے،‘‘ اور اس طرح منتخب حکومت کو سیکورٹی نظام سے الگ رکھنے کی نشاندہی کی۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ دہشت گردی کو صرف سیکورٹی مسئلہ سمجھنا اور عوامی نمائندوں کے ذریعے وسیع سماجی حلقے کو شامل نہ کرنا ایک غلط حکمت عملی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے سیاحت کی بحالی کے نازک مرحلے پر بھی بات کی، جسے گزشتہ سال۲۲؍اپریل کو بیسرن، پہلگام میں پیش آئے ’’افسوسناک‘‘ واقعے کے بعد دھچکا لگا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ملکی سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہوا ہے، تاہم یہ شعبہ اب بھی ’’جغرافیائی سیاسی صورتحال کا شکار‘‘ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں کشیدگی نے بھی بکنگ پر منفی اثر ڈالا کیونکہ بہت سے ممکنہ سیاح کووڈ جیسے لاک ڈاؤن کے خدشات کا شکار ہیں۔
صرف ’’اعداد و شمار اور سیاحوں کی آمد‘‘ پر توجہ مرکوز کرنے سے انکار کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ اُس ’’ہائپ‘‘ سے بچنا چاہتے ہیں جس نے گزشتہ سال غیر مستحکم صورتحال پیدا کرنے میں کردار ادا کیا تھا۔
وزیرا علیٰ نے کہا، ’’سیاحوں کا اعتماد بحال ہونے میں وقت لگتا ہے… اسے ایک ہفتے یا ایک مہینے میں واپس نہیں لایا جا سکتا۔ لوگ گزشتہ سال کے مقابلے میں اب زیادہ پُراعتماد ضرور ہیں، لیکن ہمیں احساس ہے کہ ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘
عمرعبداللہ نے کہا کہ اُن کی حکومت اپنی ’’حدود‘‘ سے واقف ہے، لیکن خوف کے ماحول کو ختم کرنے کے لیے مسلسل کوشش کر رہی ہے تاکہ ٹریکنگ کے شوقین افراد اور ملکی سیاح ایک بار پھر اچھی تعداد میں وادی کا رخ کریں۔ (ایجنسیاں)










