جمعرات, جون 4, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

آپریشن سندور کا ایک سال:سماری گاؤں والے معمول کی زندگی کا بیانیہ واپس لانے کیلئے کوشاں

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-05-08
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
آپریشن سندور کا ایک سال:سماری گاؤں والے معمول کی زندگی کا بیانیہ واپس لانے کیلئے کوشاں

**TO GO WITH STORY** Tangdhar: With the main road to Simari blocked by landslides, local women begin a steep trek toward Teetwal to catch the nearest bus—a daily reality of life in the rugged frontier, in Tangdhar, Sunday, May 3, 2026. (PTI Photo/S Irfan)(PTI05_07_2026_000041A)

FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

’ہم نے صرف جنگ کے بارے میں سنا ہی نہیں… بلکہ ہم نے اسے محسوس بھی کیا جب گولوں نے آسمان کو روشن کر دیا‘

ایجنسیز

متعلقہ

امت شاہ امر ناتھ یاترا انتظامات کا جائزہ لیںگے

شدید گرمی میں صرف پانی کافی نہیں، جسم کو الیکٹرولائٹس کی بھی ضرورت: ماہرین

سماری؍۷مئی

ایک دریا اس گاؤں کے بیچوں بیچ بہتا ہے، جس کے ایک کنارے پر بھارت اور دوسرے کنارے پر پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر واقع ہے۔ اگر آپریشن سندور کا کوئی گراؤنڈ زیرو ہے تو وہ سماری ہے، جہاں ایک سال قبل اُس رات کی یادوں سے نکلنے کی کوشش کرنے والے دیہاتیوں کے کانوں میں آج بھی توپ خانے کی گھن گرج سنائی دیتی ہے۔

یہ اسی سرحدی گاؤں سے، جو بلند و بالا پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے، بھارتی فوج نے۶؍اور۷مئی۲۰۲۵کی درمیانی شب دریائے کرشن گنگا کے اُس پار گولہ باری کر کے آپریشن سندور کے آغاز کا اشارہ دیا تھا۔ یہ کارروائی پہلگام دہشت گرد حملے کے جواب میں پاکستان میں موجود دہشت گردی کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے کی گئی تھی۔

ایک سال گزرنے کے بعد اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹنگڈھار سیکٹر میں شمساباری پہاڑی سلسلے کے دامن میں واقع اس خوبصورت بستی پر خاموشی چھا گئی ہے۔ زندگی معمول پر لوٹ آئی ہے، مگر باہر سے آنے والوں کا استقبال خاموشی اور کسی حد تک بے اعتمادی سے کیا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ یہ کہہ کر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں کہ وہ صرف پہاڑی زبان سمجھتے ہیں۔

ملک کے بالکل آخری کنارے پر واقع سماری کی آبادی تقریباً۵۰۰ نفوس پر مشتمل ہے اور یہاں قریب۸۰ مکانات ہیں۔ چند جدید کنکریٹ کی عمارتوں کے ساتھ روایتی مٹی اور لکڑی کے گھر بھی موجود ہیں۔ اگر دریا کے شور مچاتے پانی نہ ہوتے تو ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک لوگ آسانی سے چیخ کر ایک دوسرے کی آواز سن سکتے تھے۔ یہ دریا اس حقیقت کی مستقل یاد دہانی بھی ہے کہ یہ ایک منقسم سرزمین ہے، لفظی اور علامتی دونوں معنوں میں۔

آپریشن سندور یہاں لوگوں کے لیے کسی خبر کی طرح نہیں تھا جو دوسروں کے ساتھ پیش آ رہی ہو، بلکہ یہ اُن کے سروں کے اوپر سے گزرتا ہوا آگ کا ایک طوفان تھا۔ غلام قادر اُن چند لوگوں میں شامل ہیں جو ہچکچاتے ہوئے بات کرتے ہیں۔

قادر نے پی ٹی آئی کو بتایا، ’’ہم نے صرف جنگ کے بارے میں سنا ہی نہیں… بلکہ ہم نے اسے محسوس بھی کیا جب گولوں نے آسمان کو روشن کر دیا۔‘‘گولہ باری کی پہلی رات کے بعد چند دنوں تک کمیونٹی بنکر ہی لوگوں کا گھر بنے رہے۔

انہیں اپنے گاؤں پر فخر ہے۔ سماری کے مقامی مڈل اسکول کو پولنگ بوتھ نمبر ایک قرار دیا گیا ہے۔ اسکول کے باہر ہاتھ سے لکھا ایک نعرہ زائرین کا استقبال کرتا ہے’’جمہوریت کا آغاز یہیں سے ہوتا ہے۔‘‘

جب اُن سے پوچھا گیا کہ ملک کے آخری گاؤں کا باشندہ ہونے کا کیسا احساس ہے تو انہوں نے فوراً جواب دیا، ’’اب آپ کو سمجھنا چاہیے کہ ہم ملک کا پہلا گاؤں ہیں اور ملک میں جمہوریت کے علمبردار ہیں۔‘‘

یہ اسکول سماری کی مزاحمت اور حوصلے کی علامت ہے۔ اگرچہ یہ گاؤں سیکورٹی باڑ کی وجہ سے جسمانی طور پر ملک کے باقی حصوں سے الگ ہے، لیکن یہاں کے لوگ خود کو ملک کی جمہوریت کا اولین محافظ سمجھتے ہیں۔ گاؤں کی معیشت زیادہ تر یہاں تعینات فوجی دستوں پر منحصر ہے اور بہت سے لوگ ان کے لیے مزدوری کرتے ہیں۔

جب ملک بھر میں آپریشن سندور کا پہلا سال مکمل ہونے پر تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں، سماری میں زندگی روزمرہ کی سادہ معمولات اور اس خوف کے درمیان نازک توازن کا شکار ہے کہ اُن کے گاؤں کی یہی دورافتادگی اسے کسی بھی وقت تنازعے کا مرکز بنا سکتی ہے۔

اقبال کے مطابق سرحد پار سے آنے والے ڈرونز گولہ باری سے زیادہ خوفناک تھے۔ اُنہیں روکنے کے لیے فوج نے کئی بار فائرنگ کی۔انہوں نے کہا، ’’کچھ درانداز اشیاء (ڈرونز) ہمارے علاقے میں گری تھیں۔ فوج نے کامیابی کے ساتھ انہیں ہٹا دیا۔‘‘ انہوں نے ان مشکل دنوں میں ہر قسم کی امداد فراہم کرنے پر فوج کی تعریف بھی کی۔

ٹیٹوال علاقے سے تقریباً آٹھ کلومیٹر دور واقع اس گاؤں تک رسائی آسان نہیں۔ پکی سڑکیں جلد ہی لینڈ سلائیڈنگ اور پہاڑی ڈھلانوں سے بہتے تیز پانیوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔

یہاں پہاڑی زبان بولی جاتی ہے اور یہاں کی ثقافت اور رسم و رواج کشمیر کے مرکزی علاقوں یا شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع سے مختلف ہیں۔

بھارت نے پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں دہشت گردوں کے نو ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے تھے، جن میں تقریباً۱۰۰دہشت گرد مارے گئے تھے۔ (ایجنسیاں)

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

 کے اے ایس ظفر اقبال کیخلاف ناجائز اثاثہ جات کا مقدمہ درج

Next Post

’بھارت کوپاکستان سے سرحد پار دہشت گردی کے خلاف اپنے دفاع کا حق حاصل ‘

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

امت شاہ امر ناتھ یاترا انتظامات کا جائزہ لیںگے
اہم ترین

امت شاہ امر ناتھ یاترا انتظامات کا جائزہ لیںگے

2026-06-04
شدید گرمی میں صرف پانی کافی نہیں، جسم کو الیکٹرولائٹس کی بھی ضرورت: ماہرین
اہم ترین

شدید گرمی میں صرف پانی کافی نہیں، جسم کو الیکٹرولائٹس کی بھی ضرورت: ماہرین

2026-06-04
 راجوری میں انسدادِ دہشت گردی آپریشن ’شیرووالی‘ بارہویں روز بھی جاری
اہم ترین

 راجوری میں انسدادِ دہشت گردی آپریشن ’شیرووالی‘ بارہویں روز بھی جاری

2026-06-04
اننت ناگ:منشیات فروش کی ۶۰ لاکھ روہے کی جائیداد ضبط
اہم ترین

اننت ناگ:منشیات فروش کی ۶۰ لاکھ روہے کی جائیداد ضبط

2026-06-04
ریاستی درجے کی بحالی ‘این سی دہلی میں احتجاج کرے گی
اہم ترین

ریاستی درجے کی بحالی ‘این سی دہلی میں احتجاج کرے گی

2026-06-04
دہشت گردی سے متعلق مقدمے  میں کشمیر کے ۶؍اضلاع میں چھاپے
اہم ترین

دہشت گردی سے متعلق مقدمے میں کشمیر کے ۶؍اضلاع میں چھاپے

2026-06-04
بی جے پی پنڈتوں کے درد کی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتی: کانگریس
اہم ترین

 کانگریس کا مہنگائی بے روزگاری اور  پرچہ لیک ہونے کے خلاف احتجاج

2026-06-04
وزیر اعلیٰ حکومت کو  وفاداری کی پریڈوں تک   محدود کر رہے ہیں: شرما
اہم ترین

وزیر اعلیٰ حکومت کو وفاداری کی پریڈوں تک  محدود کر رہے ہیں: شرما

2026-06-04
Next Post
’بھارت کوپاکستان سے سرحد پار دہشت گردی کے خلاف اپنے دفاع کا حق حاصل ‘

’بھارت کوپاکستان سے سرحد پار دہشت گردی کے خلاف اپنے دفاع کا حق حاصل ‘

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.