ایجنسیز
سری نگر؍۷مئی
جموں و کشمیر اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) نے ظفر اقبال،کے اے ایس، چیف اکاؤنٹس آفیسر، ولد میر حسین، ساکن گورسائی، منڈی، پونچھ، حال مقیم بٹھنڈی جموں اور فی الوقت دفتر پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ، جموں و کشمیر، سری نگر میں تعینات، کے خلاف ناجائز اثاثہ جات (ڈی اے) کا مقدمہ درج کیا ہے۔
یہ مقدمہ اے سی بی کی جانب سے خفیہ جانچ کے بعد درج کیا گیا، جس میں یہ الزامات سامنے آئے کہ مذکورہ سرکاری افسر نے اپنی معلوم آمدنی کے ذرائع سے کہیں زیادہ اثاثے جمع کیے ہیں۔
جانچ کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ مختلف عہدوں پر تعیناتی کے دوران ملزم نے مبینہ طور پر اپنے سرکاری منصب کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی، اپنے اہلِ خانہ اور رشتہ داروں کے نام پر کروڑوں روپے مالیت کے اثاثے حاصل کیے۔
خفیہ جانچ کی بنیاد پر ملزم کے خلاف مجرمانہ بدعنوانی کا بادی النظر میں کیس قائم پایا گیا۔ اُس وقت ملزم بطور ٹریژری آفیسر گاندھی نگر جموں میں تعینات تھا جبکہ اس وقت وہ دفتر پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ سری نگر میں چیف اکاؤنٹس آفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔
چنانچہ پولیس اسٹیشن اے سی بی سینٹرل جموں میں ایک ایف آئی آر نمبر انسدادِ بدعنوانی ایکٹ۱۹۸۸کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی۔
تحقیقات کے دوران اے سی بی نے معزز عدالتِ خصوصی جج انسدادِ بدعنوانی جموں سے تلاشی وارنٹ حاصل کیے۔ اس کے بعد اے سی بی ٹیموں نے ملزم کی رہائش گاہوںبٹھنڈی جموں اور گورسائی، منڈی، پونچھ کے علاوہ سری نگر کے صنعت نگر میں واقع سرکاری رہائش گاہ پر بھی چھاپے مارے۔
تلاشی کارروائیوں کے دوران منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادوں سے متعلق اہم دستاویزات برآمد کر کے ضبط کر لی گئیں۔
معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہے۔










