واشنگٹن، 5 مئی (یو این آئی) آبنائے ہرمز کے گرد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کرگئی اور جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے امریکی جہازوں پر حملہ کیا تو اسے سخت نتائج بھگتنا ہوں گے۔ آ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کی فوج تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کر رہی ہے جبکہ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر اس کے کنٹرول میں ہے۔ امریکی حکام کے مطابق 7 ایرانی کشتیوں کو تباہ کیا گیا ہے تاہم ایران نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق جنوبی کوریا کے 1 جہاز پر حملہ اور آگ لگنے کی بھی تصدیق ہوئی ہے جبکہ مزید 2 جہازوں میں آگ لگنے کی اطلاعات ہیں۔ گزشتہ روز ایران نے متحدہ عرب امارات پر بھی میزائل اور ڈرون حملے کیے جس کے نتیجے میں فجیرہ کے آئل زون میں آگ لگ گئی اور 3 افراد زخمی ہوئے۔ متحدہ عرب امارات نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جواب دینے کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
ادھر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ امریکا میں پیٹرول کی قیمت 4.45 ڈالرز فی گیلن سے تجاوز کر گئی ہے جس سے مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے 50 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا ہے تاکہ علاقے میں سیکیورٹی یقینی بنائی جا سکے جبکہ کئی ممالک کے جہاز اب بھی پھنسے ہوئے ہیں۔
ادھر ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھ گئی ہے، ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک امریکی جنگی جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے تاہم امریکہ نے اس کی تردید کر دی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی جہاز ایرانی بندرگاہ جاسک کے قریب داخل ہوا اور وارننگ نظر انداز کرنے پر اس پر 2 میزائل داغے گئے جس کے بعد وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا۔
دوسری جانب امریکی فوج نے سوشل میڈیا بیان میں کہا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یہ صورتِ حال اس وقت سامنے آئی ہے جب ایرانی فوجی قیادت نے خبردار کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والی امریکی افواج کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس اہم گزرگاہ کی سیکیورٹی ہر قیمت پر برقرار رکھیں گے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران میں ممکنہ طویل جنگ کی تیاریوں کا عمل بھی جاری ہے۔
ایرانی حکام میزائل اور ڈرون صلاحیت بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ ملک میں انٹرنیٹ بندش بھی جاری ہے جو 90 ملین سے زائد افراد کو متاثر کر رہی ہے۔ ایرانی حکومت نے ‘جانِ فدا’ نامی مہم بھی شروع کر رکھی ہے جس میں عوام کو قربانی کے لیے تیار رہنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس مہم میں 31 ملین افراد شامل ہو چکے ہیں تاہم غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں ان اعداد و شمار کو مشکوک قرار دیا جا رہا ہے۔









