’روزانہ مسافروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے‘دستیاب نشستوں کی بھرائی کی شرح ۸۲ فیصد‘
ایجنسیز
جموں؍ ۵مئی
جموں اور سری نگر کے درمیان حال ہی میں شروع کی گئی وندے بھارت ایکسپریس سروس کو مسافروں کی جانب سے زبردست ردعمل ملا ہے، جہاں پہلے چار دنوں میں۱۶ہزار۳۴۹ مسافروں نے اس سروس سے فائدہ اٹھایا، ریلوے حکام نے منگل کو بتایا۔
۲ مئی کو شروع کی گئی اس نیم تیز رفتار ٹرین نے اس مدت کے دوران اوسطاً تقریباً۸۲فیصد نشستوں کی بھرائی ریکارڈ کی، جو مسافروں کے درمیان اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے، خاص طور پر اس کی رفتار اور اعلیٰ معیار کی آن بورڈ سہولیات کے باعث۔
حکام نے کہا’’۲سے۵ مئی تک کے اعداد و شمار کا جائزہ لینے پر تقریباً۱۶ہزار۳۴۹مسافروں نے اس سفر سے لطف اٹھایا، جبکہ اوسط نشستوں کی بھرائی کی شرح تقریباً۸۲ فیصد رہی‘‘۔انہوں نے بتایا کہ اس روٹ پر روزانہ مسافروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
۴ مئی کو ٹرین میں۸۲ فیصد نشستیں پُر رہیں، جہاں دو جوڑی ٹرینوں کے ذریعے تقریباً۴۶۸۰ مسافروں نے سفر کیا۔
۵ مئی کو نشستوں کی بھرائی مزید بڑھ کر۹۶ فیصد تک پہنچ گئی، جب ہفتہ وار شیڈول کے تحت صرف ایک جوڑی چلائی گئی۔ اس روز دونوں سمتوں میں تقریباً۲۷۴۴ مسافروں نے سفر کیا۔
حکام کے مطابق مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سیاح اور زائرین روایتی ٹرین خدمات کے مقابلے میں وندے بھارت ایکسپریس کے جدید سفری تجربے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسافروں نے ٹرین کی عالمی معیار کی سہولیات، پیچیدہ پٹریوں پر ہموار اور جھٹکوں سے پاک سفر، اور فراہم کیے جانے والے کھانے کے معیار کو بھی سراہا ہے۔
حکام نے مزید بتایا کہ جموں ڈویژن کے حکام اعلیٰ خدماتی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے باقاعدگی سے معائنہ کر رہے ہیں۔
سینئر ڈویژنل کمرشل منیجر اچت سنگھل نے کہا کہ یہ سروس بھارتی ریلوے کی جاری جدید کاری کی عکاسی کرتی ہے اور مسافروں کی جانب سے اسے خوب پذیرائی ملی ہے۔
سنگھل نے کہا’’دو دنوں میں نشستوں کی بھرائی۸۲ فیصد سے بڑھ کر۹۶فیصد ہونا ہمارے لیے باعثِ فخر ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ مسافر مطمئن ہیں اور اس ٹرین کو ایک قابلِ اعتماد سفری ذریعہ سمجھ رہے ہیں‘‘۔
سنگھل نے کہا کہ مسافروں کی آراء پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ سفری تجربے کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا’’سیاحتی سیزن کے آغاز کے ساتھ ہمیں امید ہے کہ آنے والے دنوں میں ٹرین تقریباً مکمل طور پر بھر جائے گی۔‘‘
۔۔۔۔










