ایجنسیز
نئی دہلی؍۵مئی
دہلی ہائی کورٹ نے منگل کے روز بارہمولہ کے مقید رکنِ پارلیمان شیخ عبدالرشید المعروف انجینئر رشید کو اپنے علیل والد سے اے آئی آئی ایم ایس دہلی میں۱۰مئی تک روزانہ۱۲گھنٹے ملاقات کی اجازت دے دی۔
جسٹس پرتھیبا ایم سنگھ اور جسٹس مدھو جین پر مشتمل بنچ نے رشید کو اپنے والد سے سری نگر میں ملاقات کی غرض سے دی گئی عبوری ضمانت کے سابقہ حکم میں ترمیم کرتے ہوئے واضح کیا کہ اے آئی آئی ایم ایس میں ملاقات کے بعد وہ دوبارہ جیل واپس جائیں گے۔
بنچ نے مزید کہا کہ دیگر شرائط بدستور برقرار رہیں گی، جن میں رشید کے ساتھ سادہ لباس میں کم از کم دو پولیس اہلکاروں کی موجودگی شامل ہے۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ پولیس اہلکار آل انڈیا میڈیکل انسٹچوٹ‘دہلی میں ان کے والد کے وارڈ کے باہر موجود رہیں گے۔
عدالت نے کہا’’چونکہ اپیل کنندہ کے والد پہلے ہی اے آئی آئی ایم ایس دہلی میں ہیں اور۲۸؍ اپریل کے حکم کا مقصد یہ تھا کہ اپیل کنندہ اپنے والد کے ساتھ وقت گزار سکے، اس لیے حکم میں ترمیم کرتے ہوئے اپیل کنندہ کو۱۰مئی تک روزانہ صبح۸بجے سے شام۹بجے تک اپنے والد سے ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے‘‘۔
عدالت نے مزید کہا’’مقررہ وقت ختم ہونے کے بعد اپیل کنندہ جیل میں ہی رہے گا‘‘۔عدالت نے این آئی اے کے وکیل کی اس درخواست کو بھی مسترد کر دیا کہ رشید کو موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت دینے کی شرط ختم کی جائے، اور ایجنسی کو ’غیر عملی‘ دلائل دینے سے گریز کرنے کو کہا۔
این آئی اے کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر ملزم کو اتنی طویل مدت تک بغیر پولیس اہلکاروں کی موجودگی کے موبائل فون دیا جائے تو ’کچھ بھی ممکن‘ ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر اسے موبائل فون استعمال کرنا ہے تو وہ اپنے والد یا کسی بھی خاندان کے فرد کا فون استعمال کر سکتا ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ رشید کو جیل سے باہر رہنے کے دوران موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔
عدالت نے۲۸؍ اپریل کو رشید کو عبوری ضمانت اس شرط پر دی تھی کہ وہ یا تو سری نگر کے اس اسپتال جا سکتے ہیں جہاں ان کے والد زیرِ علاج تھے یا گھر پر رہ سکتے ہیں۔عبوری ضمانت کی مدت۶مئی کو ختم ہونا تھی۔
پیر کے روز عدالت نے رشید کو مقامی پتہ فراہم کرنے کے لیے وقت دیا تھا، جب انہوں نے اپنے والد کے ساتھ رہنے کے لیے سری نگر سے دہلی واپس آنے کی اجازت طلب کی تھی، جہاں ان کے والد کو اے آئی آئی ایم ایس منتقل کیا گیا تھا۔
سماعت کے دوران رشید کے سینئر وکیل نے کہا کہ انہوں نے اس مقصد کے لیے ایک مکان کرائے پر لیا ہے کیونکہ دہلی میں ان کا کوئی رشتہ دار نہیں ہے۔تاہم، این آئی اے کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ ملزم کے والد بھی اب دہلی میں ہیں، اس لیے انہیں کرائے کے مکان میں رہنے کی اجازت دینے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب انہیں پارلیمنٹ میں شرکت کی اجازت دی گئی تھی تو انہیں کسٹڈی پیرول پر بھیجا گیا تھا۔
کسٹڈی پیرول کے تحت قیدی کو مسلح پولیس اہلکاروں کی نگرانی میں اس مقام تک لے جایا جاتا ہے جہاں اسے جانا ہوتا ہے۔
ایجنسی کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے عدالت نے رشید کے وکیل سے کہا’’آپ صبح۸ بجے سے شام۸ بجے تک جا سکتے ہیں‘‘۔ عدالت نے کہا’’وہ (این آئی اے کے وکیل) اس حد تک درست ہیں کہ ہم اس پتے کی تصدیق کا عمل اب شروع نہیں کر سکتے۔ اس کے بغیر ہم اجازت نہیں دے سکتے‘‘۔
پیر کے روز عدالت نے رشید کو بطور رکنِ پارلیمان دیے گئے فلیٹ میں قیام کی اجازت دینے سے بھی انکار کر دیا تھا۔عدالت نے کہا تھا کہ انہیں ایسے مقام پر رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی جہاں دیگر ارکانِ پارلیمان بھی رہتے ہوں، کیونکہ یہ سکیورٹی کا مسئلہ بن سکتا ہے۔
عدالت نے یہ حکم اس وقت جاری کیا جب وہ۲۴؍ اپریل کے ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف رشید کی اپیل کی سماعت کر رہی تھی، جس میں انہیں عبوری ضمانت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔
رشید کو جموں و کشمیر میں علیحدگی پسندوں اور دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ این آئی اے نے انہیں۲۰۱۷کے دہشت گردی کی مالی معاونت کے کیس میں گرفتار کرنے کے بعد۲۰۱۹ سے دہلی کی تہاڑ جیل میں رکھا ہوا ہے۔
اکتوبر۲۰۱۹ میں چارج شیٹ دائر ہونے کے بعد، ایک خصوصی این آئی اے عدالت نے مارچ۲۰۲۲ میں رشید اور دیگر کے خلاف بھارتی تعزیراتِ ہند کی دفعات۱۲۰ بی (مجرمانہ سازش)،۱۲۱ (حکومت کے خلاف جنگ چھیڑنا) اور ۱۲۴؍اے (بغاوت) کے تحت اور غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ کے تحت دہشت گردانہ کارروائیوں اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق جرائم کے الزامات عائد کیے تھے۔










