آج کمرشل خدمات کے آغاز کے ساتھ ہی ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے، جو جدید ریل سفر اور ’میک اِن انڈیا‘ مہم کی بڑی کامیابی ہے:سنگھل
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۲مئی
جموں اور سری نگر کے درمیان پہلی براہِ راست وندے بھارت ایکسپریس کی کمرشل سروس ہفتہ کے روز شاندار انداز میں شروع ہو گئی، جس کا افتتاح دو روز قبل وزیر ریلوے اشونی ویشنو نے کیا تھا۔
حکام کے مطابق۲۰کوچز پر مشتمل یہ ٹرین منگل کے علاوہ ہفتے میں چھ دن چلے گی اور دونوں شہروں کے درمیان سفر کا وقت کم ہو کر پانچ گھنٹے سے بھی کم رہ جائے گا۔یہ ٹرین پہلے سری نگر سے شری ماتا ویشنو دیوی کٹرہ تک چلتی تھی، جسے اب بڑھا کر جموں توی تک کر دیا گیا ہے۔
پھولوں سے سجی یہ ٹرین جموں ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر۷سے سری نگر کے لیے روانہ ہوئی، جو خطے میں ریل رابطے کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے۔ جموں ڈویژن کے سینئر منیجر اوچِت سنگھل نے یہ بات کہی۔
سنگھل نے کہا’’آج جموں سے سری نگر کے لیے وندے بھارت ٹرین سروس کے آغاز کے ساتھ ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے، جو جدید ریل سفر اور ‘میک اِن انڈیا’ مہم کی بڑی کامیابی ہے‘‘۔
یہ نیم تیز رفتار ٹرین جموں توی سے سری نگر تک تقریباً۲۷۲کلومیٹر کا فاصلہ۴گھنٹے۵۰منٹ میں طے کرے گی، جو سڑک کے ذریعے۱۲سے۲۴ گھنٹے میں طے ہوتا تھا، یہ وقت سڑک کی صورتحال پر منحصر ہوتا تھا۔
اس روٹ پر روزانہ دو جوڑی ٹرینیں چلیں گی، جس سے مسافروں، سیاحوں اور یاتریوں کو زیادہ سہولت میسر آئے گی۔
شیڈول کے مطابق پہلی ٹرین صبح۶بج کر۲۰ منٹ پر جموں توی سے روانہ ہو کر۱۱بج کر۱۰منٹ پر سری نگر پہنچے گی، جبکہ راستے میں شری ماتا ویشنو دیوی کٹرہ، ریاسی اور بانہال میں قیام کرے گی۔ واپسی پر ٹرین دوپہر۲۲بجے سرینگر سے روانہ ہو کر شام۶بج کر۵۰منٹ پر جموں توی پہنچے گی۔
حکام کے مطابق افتتاحی سفر میں پہلی ٹرین میں تقریباً۹۴۰جبکہ دوسری ٹرین میں۹۹۵ مسافر سوار تھے۔ واپسی پر دونوں ٹرینوں میں مجموعی طور پر۱۹۹۰سے زائد مسافروں نے سفر کیا اور اس تجربے کو خوب سراہا۔
جموں میں مسافروں نے اس سروس کو’خواب کی تعبیر‘ اور’گیم چینجر‘ قرار دیا۔
بانہال کے ایک مسافر نے کہا کہ یہ ٹرین نہ صرف وقت بچائے گی بلکہ شاہراہ پر سفر سے جڑی غیر یقینی صورتحال کو بھی ختم کرے گی۔ ’’یہ سفر بغیر ٹریفک جام، آرام دہ اور تقریباً۶۰۰ روپے کرائے کے ساتھ سستا بھی ہے، جو سیاحت کے لیے فائدہ مند ہے‘‘۔
جموں کی رہائشی سنیتا شرما نے اسے دونوں خطوں کے لیے بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا’’یہ کشمیریوں کے لیے خواب کی تعبیر اور جموں کے لیے ایک بڑا سنگِ میل ہے، اس سے دونوں علاقوں کے درمیان رابطہ مزید مضبوط ہوگا‘‘۔
اَکھنور کے مرتضیٰ شریف نے ایک ہی دن میں آنے جانے کی سہولت کو نمایاں قرار دیا۔’’ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ صبح جا کر شام واپس آ سکتے ہیں، اس سے ہر طبقے کو فائدہ ہوگا‘‘۔
کٹھوعہ کے رہائشی شِشیر راجن نے کہا کہ اس سروس سے سفر آسان ہو گیا ہے کیونکہ شاہراہ اکثر بند رہتی ہے۔ ’’اب سفر تیز، ہموار اور زیادہ آرام دہ ہو گیا ہے‘‘۔
امرتسر سے آئے سیاح اروند سنگھ نے کہا کہ اس ٹرین سروس سے تحفظ کا احساس بڑھتا ہے اور انہوں نے کشمیر میں ریل رابطے کو مضبوط بنانے پر حکومت کی تعریف کرتے ہوئے اسے ’بدلتے ہوئے بھارت‘ کی عکاسی قرار دیا۔
افتتاحی ٹرین کے پائلٹ نے بتایا کہ یہ ٹرین جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔
یہ سروس اُدھم پوربارہمولہ ریل لنک کی تکمیل کے بعد شروع کی گئی ہے، جس کی تعمیر میں کئی دہائیوں تک انجینئرنگ چیلنجز کا سامنا رہا۔
حکام کے مطابق، متعدد رکاوٹوں کے باوجود اب یہ سروس باقاعدگی سے چلنے کے لیے تیار ہے، جو جموں و کشمیر میں ریل رابطے کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔










