کولگام میںبین الریاستی منشیات نیٹ ورک بے نقاب :پولیس
ویب ڈیسک
سرینگر؍۲مئی
ضلع انتظامیہ اننت ناگ نے ہفتہ کے روز بجبہاڑہ کے علاقے واگھامہ میں ایک بڑی کارروائی کے دوران۱۵غیر قانونی ڈھانچوں کو منہدم کر کے منشیات فروشوں اور این ڈی پی ایس ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف اپنی مہم کو مزید تیز کر دیا۔
یہ کارروائی جاری۱۰۰روزہ تیز رفتار ’نشہ مکت جموں و کشمیر مہم‘ کے تحت انجام دی گئی، جس میں حکام نے منشیات کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے اور منشیات کی اسمگلنگ سے جڑی غیر قانونی جائیدادوں کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔
حکام کے مطابق ایک مشترکہ آپریشن میں محکمہ مال کے افسران نے پولیس کی مدد سے ریاستی اور کاہچرائی اراضی پر غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی۱۵دکانوں سمیت متعدد ڈھانچوں کو منہدم کیا۔ یہ اراضی خسرہ نمبر۲۴۹۴(من) اور۲۴۹۵ (من)، اسٹیٹ واگھامہ میں واقع ہے۔ بتایا گیا کہ یہ ڈھانچے ان افراد سے منسلک تھے جو نارکوٹک ڈرگز اینڈ سائیکو ٹروپک سبسٹینسز ایکٹ کے تحت مقدمات میں ملوث ہیں۔
اس کارروائی کے نتیجے میں قبضہ شدہ ریاستی اور کاہچرائی اراضی بھی واگزار کرائی گئی، جو عوامی زمین کو غیر قانونی قبضے سے آزاد کرانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
ضلع انتظامیہ نے زیرو ٹالرنس پالیسی دہراتے ہوئے کہا کہ منشیات فروشوں، نارکوٹکس نیٹ ورکس اور غیر قانونی قبضوں کے خلاف سخت اور مسلسل کارروائیاں مہم کے دوران جاری رہیں گی۔ حکام نے اس بات پر زور دیا کہ منشیات کے کاروبار سے وابستہ غیر قانونی املاک کا خاتمہ سپلائی چین توڑنے کی ایک اہم حکمت عملی ہے۔
انتظامیہ نے سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ منشیات سے متعلق سرگرمیوں یا غیر قانونی قبضوں میں ملوث پائے جانے والوں کے خلاف آئندہ دنوں میں سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
دریں اثنا، منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف ایک بڑی کارروائی میں کولگام پولیس نے بین الریاستی منشیات نیٹ ورک کو بے نقاب کرتے ہوئے جموں کے بیلی چرنا علاقے میں۹۲لاکھ ۷۳ہزار روپے مالیت کی غیر قانونی جائیداد ضبط کر لی، حکام نے بتایا۔
یہ کارروائی۲۰مارچ۲۰۲۶کو درج ایک مقدمے کے سلسلے میں عمل میں آئی، جب قاضی گنڈ پولیس اسٹیشن کی ایک ٹیم نے معمول کی گشت کے دوران ریلوے اسٹیشن قاضی گنڈ کے قریب کوری گام میں ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا۔ ملزم کی شناخت سری نگر کے پنزینارہ علاقے کے رہائشی محمد رفیق میر کے طور پر ہوئی، جس کے قبضے سے تقریباً۱۶ گرام ہیروئن (عرف براؤن شوگر) برآمد ہوئی۔
برآمدگی کے بعد این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات۸/۲۱کے تحت ایف آئی آر نمبر۴۳ /۲۰۲۶ درج کر کے تحقیقات شروع کی گئی۔
دورانِ تفتیش ملزم نے انکشاف کیا کہ منشیات جموں کے چینور بستی گجنسو کے رہائشی باغ حسین کسانہ سے حاصل کی گئی تھی، جو اس وقت نکّی توی میں مقیم تھا۔ اس انکشاف پر پولیس نے سرچ وارنٹ حاصل کر کے ملزم کے گھر پر چھاپہ مارا، جہاں سے۲۶۵گرام ہیروئن نما مادہ برآمد ہوا۔بعد ازاں این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ۲۹ کا اطلاق کرتے ہوئے ملزم باغ حسین کسانہ کو۲۲ مارچ۲۰۲۶کو گرفتار کر لیا گیا۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزم بین الریاستی سطح پر منشیات کی اسمگلنگ میں سرگرم تھا اور مالی فائدے کے لیے وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں منشیات سپلائی کرتا تھا۔ پولیس نے مزید پایا کہ اس کے پاس آمدنی کا کوئی جائز ذریعہ نہیں تھا اور وہ کافی عرصے سے منشیات فروشی میں ملوث تھا۔ فی الحال وہ ضلع جیل اننت ناگ میں بند ہے۔
تحقیقی ٹیم کی جانب سے کی گئی مالیاتی جانچ میں منشیات کی کمائی سے حاصل کی گئی غیر منقولہ جائیدادوں کی نشاندہی کر کے انہیں ضبط کر لیا گیا۔ ان میں تقریباً۷۱ء۵۲لاکھ روپے مالیت کی زمین اور تقریباً۲۱ء۲۱لاکھ روپے مالیت کا رہائشی مکان شامل ہے، جس کی مجموعی مالیت۹۲ء۷۳لاکھ روپے بنتی ہے۔
سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کُلگام عنایت علی چودھری نے منشیات کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے اور اس کاروبار یا اس کی معاونت میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے عوام، خصوصاً نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ منشیات سے دور رہیں اور اس سے متعلق کسی بھی اطلاع کو پولیس کے ساتھ شیئر کریں، جسے مکمل رازداری میں رکھا جائے گا۔
کولگام پولیس نے منشیات کے ناسور کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مجرموں کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی اور ایک نشہ سے پاک معاشرے کی تشکیل میں عوامی تعاون کلیدی کردار ادا کرے گا










