نئی دہلی، 30 اپریل (یو این آئی) سپریم کورٹ میں وکالت کی پریکٹس کے لیے لازمی ‘ایڈووکیٹ آن ریکارڈ’ امتحان 2026 کو منسوخ کرتے ہوئے اسے اگلے سال کے لیے ٹال دیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کے امتحان منعقد کرنےوالے سیل نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ امتحان سے متعلق سیل نے باقاعدہ حکم جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سال 2026 میں اے او آر امتحان منعقد نہیں کیا جائے گا۔ رجسٹرار اور امتحانی بورڈ کے سکریٹری کی جانب سے جاری کردہ اس نوٹس میں کہا گیا ہے کہ موجودہ وقت میں ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کی کل تعداد اور کافی گنجائش کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سال امتحان نہ کرانے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔
انتظامیہ کا ماننا ہے کہ فی الحال اے او آر کی تعداد کام کے بوجھ کے حساب سے کافی ہے، اس لیے اس عمل کو اگلے سال تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اب یہ امتحان سال 2027 میں ہونے کا امکان ہے۔ اس امتحان کے امیدواروں کو ابھی امتحان کی درست تاریخوں اور تفصیلی شیڈول کے لیے انتظار کرنا ہوگا، کیونکہ اس بارے میں معلومات مناسب وقت پر مطلع کی جائیں گی۔
قابلِ ذکر ہے کہ ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کا درجہ ایک مشکل امتحان پاس کرنے پر ہی ملتا ہے اور یہ سینیئر ایڈووکیٹ سے مختلف ہوتا ہے۔ جہاں ایک عام وکیل سپریم کورٹ میں صرف بحث کر سکتا ہے، وہیں صرف ایک اے او آر کو ہی سپریم کورٹ میں عرضیاں اور وکالت نامہ دائر کرنے کا خصوصی حق حاصل ہوتا ہے۔
ایک اے او آر بننے کے لیے وکلاء کو چار سال کی پریکٹس کے بعد ایک سال کی خصوصی تربیت لینی ہوتی ہے اور پھر سپریم کورٹ کے زیرِ اہتمام ایک مشکل امتحان پاس کرنا لازمی ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ان کا سپریم کورٹ کے 16 کلومیٹر کے دائرے میں ایک دفتر ہونا بھی ضروری ہے۔
موجودہ اعداد و شمار کی بات کریں تو ملک میں فعال ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کی کل تعداد تقریباً 3,000 سے 3,800 کے درمیان ہے۔ نئے اے او آر کے لیے ہونے والے امتحان کے التوا کی وجہ سے ان وکلاء کو اب طویل انتظار کرنا ہوگا جو اس باوقار عہدے کی اہلیت حاصل کرنے کے لیے سخت محنت کر رہے تھے۔










