جہاںبھارت آئی ٹی کیلئےجانا جاتا ہے‘وہیں پاکستان ’انٹرنیشنل ٹیررازم‘ کیلئے پہچاناجاتاہے: راج ناتھ سنگھ
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۳۰؍اپریل
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعرات کو اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت نے آپریشن سندور کو اپنی مرضی اور اپنی شرائط پر رضاکارانہ طور پر روکا تھا، اور پاکستان کے خلاف ایک ’طویل جنگ‘ کے لیے تیار تھا۔
سنگھ اے این آئی نیشنل سکیورٹی سمٹ۲ء۰ سے خطاب کر رہے تھے، جہاں انہوں نے پاکستان کو بین الاقوامی دہشت گردی کا مرکز قرار دیا اور دہشت گردی کی نظریاتی اور سیاسی جڑوں کو ختم کرنے پر زور دیا۔
وزیر دفاع نے کہا’’آپریشن سندور کے دوران، ہم نے ان لوگوں کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا جنہوں نے ہم پر حملہ کیا تھا۔ اور میں یہاں ایک بار پھر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم نے یہ آپریشن اس لیے نہیں روکا کہ ہماری صلاحیتیں کم ہو گئی تھیں۔ ہم نے اسے رضاکارانہ طور پر، اپنی شرائط پر روکا، اور اگر ضرورت پڑتی تو ہم ایک طویل جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار تھے‘‘۔
سنگھ نے مزید کہا کہ اس کے بعد بھارتی مسلح افواج نے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے اور اچانک ضرورت کے وقت وہ مضبوط ہیں۔ان کاکہنا تھا’’اور ہمارے پاس اضافی صلاحیت بھی تھی، یعنی اچانک ضرورت کے وقت اپنی طاقت بڑھانے کی اہلیت۔ نہ صرف ہمارے پاس یہ تھی بلکہ اب بھی ہے، اور پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔ اس لیے مجھے نہیں لگتا کہ اس سے زیادہ کچھ کہنے کی ضرورت ہے‘‘۔
سنگھ نے آپریشن سندور کو ایک’اہم موڑ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے دنیا کو دکھایا کہ بھارت دہشت گرد حملوں کے جواب میں صرف سفارتی بیانات پر انحصار نہیں کرتا۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی’دہشت گردی کے خلاف صفر برداشت پالیسی‘کی بھی تعریف کی اور کہا کہ ان کی قیادت میں ’’کسی بھی صورت میں کسی دہشت گرد سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا‘‘۔
وزیر دفاع نے کہا’’آپریشن سندور کو تقریباً ایک سال ہو چکا ہے، اور یہ نئے عالمی نظام کی بھی علامت ہے۔ یہ ایک اہم موڑ تھا جس نے پوری دنیا کو پیغام دیا کہ بھارت اب پرانی سوچ پر عمل کرنے والا ملک نہیں رہا، جہاں ہماری سرزمین پر دہشت گرد حملے ہوں اور ہم صرف سفارتی بیانات جاری کریں۔ اور وزیر اعظم مودی کی قیادت میں ہماری حکومت نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی حالت میں دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا‘‘۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی صرف ایک ’قوم مخالف عمل‘ نہیں بلکہ اس کے کئی پہلو ہیں، اور اس سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے ان تمام پہلوؤں سے نمٹنا ضروری ہے۔
سنگھ نے کہا’’دہشت گردی صرف ایک قوم مخالف عمل نہیں ہے، اس کے کئی پہلو ہیں، اور اس سے اسی وقت نمٹا جا سکتا ہے جب ہم اس کے تینوں پہلوؤں—آپریشنل، نظریاتی اور سیاسی—سے نمٹیں۔ دہشت گردی کا اصل آئی پی ایڈریس اس کی نظریاتی اور سیاسی جڑیں ہیں، جہاں یہ پروان چڑھتی ہے‘‘۔
وزیر دفاع نے دہشت گردی کو ’راون کی ناف میں موجود امرت‘سے تشبیہ دی اور کہا کہ اگر ایک سر کاٹ بھی دیا جائے تو دوسرا پیدا ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منبع کو ختم کرنا ضروری ہے جو دہشت گردی کو زندہ رکھتا ہے۔انہوں نے کہا’’دہشت گردی کی نظریاتی پرورش اور سیاسی سرپرستی راون کی ناف میں موجود امرت کی طرح ہے، جو ایک سر کٹنے کے بعد دوسرا اگنے دیتی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اس ذریعہ کو خشک کرنا ضروری ہے جو دہشت گردی کو زندگی دیتا ہے‘‘۔
سنگھ نے پاکستان کو دہشت گردی کی حمایت کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اگرچہ دونوں ممالک کو ایک ساتھ آزادی ملی، مگر آج بھارت دنیا بھر میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لیے جانا جاتا ہے جبکہ پاکستان کو دوسرے آئی ٹی یعنی بین الاقوامی دہشت گردی کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا’’ہم نے ہمیشہ دیکھا ہے کہ پاکستان جیسے ممالک مسلسل دہشت گردی کی حمایت کرتے رہے ہیں، اور اسی لیے اگرچہ بھارت اور پاکستان کو ایک ہی وقت میں آزادی ملی، مگر آج بھارت دنیا بھر میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لیے جانا جاتا ہے جبکہ پاکستان کو دوسرے آئی ٹی یعنی بین الاقوامی دہشت گردی کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ ہمارا ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس یہ ثابت کر چکا ہے کہ یہ صرف امن کے وقت کے لیے نہیں بلکہ جنگ کے دوران تیز رفتار فراہمی کے لیے بھی تیار ہے‘‘۔
سنگھ نے کہا کہ آپریشن سندور کے دوران بھارت کو جوہری حملے کی دھمکی بھی دی گئی تھی، لیکن اس نے اس ’دھمکی‘ کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔انہوں نےکہا ’’ہمیں جوہری حملے کی دھمکی بھی دی گئی، لیکن ہم اس دھمکی میں نہیں آئے‘‘۔
بھارت نے۷مئی۲۰۲۵کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے جواب میں آپریشن سندور شروع کیا تھا، جس میں۲۶؍افراد، جن میں زیادہ تر سیاح تھے، ہلاک ہو گئے تھے۔










