ایجنسیز
جموں؍۳۰؍اپریل
۳۲۷کلومیٹر طویل جموں-کٹرا-سری نگر-بارہمولہ ریلوے لائن پر پہلے سے موجود کثیر سطحی سکیورٹی انتظامات کے علاوہ‘۲۱ سیکیورٹی اہلکار، جن میں آر پی ایف کمانڈوز بھی شامل ہیں، جموں-سری نگر وندے بھارت ایکسپریس سروس کی حفاظت کریں گے۔ یہ بات ایک سرکاری عہدیدار نے بتائی۔
ریلوے وزیر اشونی ویشنو نے جمعرات کو۲۰ کوچز پر مشتمل اس ٹرین کو ہری جھنڈی دکھائی، جس سے توقع ہے کہ جموں اور سری نگر کے درمیان سفر کا وقت کم ہو کر تقریباً پانچ گھنٹے رہ جائے گا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ بھی موجود تھے۔
انڈین ریلوے پروٹیکشن فورس سروس کے پرنسپل چیف سکیورٹی کمشنر پنکج گنگوار نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا’’آج جموں سے اس سروس کا آغاز ہوا ہے۔ اس کی باقاعدہ سروس۲ مئی سے شروع ہوگی‘‘۔
گنگوار نے کہا کہ ریلوے لائن اور وندے بھارت ٹرین کی حفاظت کے لیے ایک جامع سیکیورٹی گرڈ قائم کیا گیا ہے۔ان کاکہنا تھا’’ابتدائی سیکیورٹی کے لیے ہم نے ’ون پلس ٹوئنٹی‘ گارڈ سسٹم تعینات کیا ہے۔ ایک انسپکٹر ٹیم کی قیادت کرے گا، جس میں آٹھ ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف) کمانڈوز بھی شامل ہیں جو راستے بھر سیکیورٹی کو یقینی بنائیں گے‘‘۔انہوں نے مزید بتایا کہ یہ اہلکار جدید ہتھیاروں سے لیس ہیں۔
عہدیدار نے بتایا کہ سیکیورٹی کے تحت ٹرین سے پہلے ایک پائلٹ گاڑی بھی چلائی جائے گی۔’’یہ صبح پہلے روانہ ہوگی اور راستے میں کسی بھی ممکنہ خامی کو دور کرے گی‘‘۔اس کے علاوہ، ہر دو کلومیٹر پر گارڈ پوسٹس قائم کی گئی ہیں، جہاں گورنمنٹ ریلوے پولیس اور سول پولیس کے فوری ردِعمل دستے تعینات ہیں۔
گنگوار کا کہنا تھا کہ کسی بھی اطلاع پر یہ ٹیمیں فوراً متاثرہ علاقے کو محفوظ بنائیں گی۔
ٹنلز کی سیکیورٹی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ایک مشترکہ ٹنل کنٹرول سسٹم قائم کیا گیا ہے، جسے انجینئرنگ ٹیمیں اور گورنمنٹ ریلوے پولیس مل کر چلاتی ہیں۔’’غیر معمولی سرگرمی—چاہے آگ ہو یا دراندازی—کا پتہ لگانے کے لیے سینسرز نصب کیے گئے ہیں، جو فوری طور پر الارم بجا دیتے ہیں۔ ٹنلز کے دونوں سروں پر پہرہ ہے‘‘۔
ہنگامی حالات میں مسافروں کے محفوظ انخلا کے لیے ایمرجنسی ٹنلز بھی فراہم کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا ’’آپ دیکھیں گے کہ پورے راستے میں مکمل اور مضبوط سیکیورٹی موجود ہے۔ اس کے علاوہ کشمیر کے لوگوں کی محبت اور تعاون بھی اس سروس کی حفاظت کی ایک بڑی ضمانت ہے‘‘۔
آر پی ایف کمانڈوز‘ گزشتہ سال کٹرا-سری نگر ریلوے لنک پر چلنے والی وندے بھارت ٹرینوں کی سیکیورٹی کے لیے تعینات کیے گئے تھے۔۳۲۷کلومیٹر طویل اس ریلوے پروجیکٹ پر تقریباً۴۳ہزار۷۸۰کروڑ روپے لاگت آئی ہے، جس میں۳۶ٹنلز(۱۱۹کلومیٹر) اور۹۴۳ پل شامل ہیں۔
یہ منصوبہ کشمیر وادی کو ملک کے دیگر حصوں سے ہر موسم میں مربوط ریلوے رابطہ فراہم کرتا ہے، جس سے علاقائی نقل و حرکت میں بہتری اور سماجی و اقتصادی انضمام کو فروغ ملے گا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ سال۶جون کو کٹرا اور سری نگر کے درمیان پہلی وندے بھارت ٹرین سروس کا افتتاح کیا تھا، جو کشمیر وادی اور جموں خطے کے درمیان پہلا ریلوے رابطہ تھا۔










