کوئی ہمیں بھی تو سمجھائے کہ ہم سمجھ نہیں پا رہے ہیں …….بالکل بھی سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ آخر وزیرا علیٰ کے صلاح کار ‘ناصراسلم وانی صاحب ہمیں اور آپ کو کیا سمجھانا چاہتے ہیں ۔ ہم نے کوشش کی ……. لاکھ کوشش کی کہ ہم سمجھ پائیں ‘یہ سمجھ پائیں کہ آیا صلاح کار صاحب اپوزیشن لیڈر التجا مفتی کے الزام کی تردید کررہے ہیں یا پھر تائید …….یہ ہم نہیں سمجھ پا رہے ہیں ۔ التجا کا الزام ہے کہ نیشنل کانفرنس کی حکومت تحصیلدار کے امتحان کیلئے نصاب سے اردو کو ہٹا رہی ہے ……. التجا صاحبہ ‘اس کےخلاف سڑک پر آئیں اور اردو کو کشمیر کی تہذیب‘ تمدن اور شناخت کا حصہ قراردیا …….نیشنل کانفرنس ‘ جس کے کان پر ‘کسی بھی مسئلہ یا الزام پر‘ جُو تک نہیں رینگتی ہے ‘ لیکن نہ جانے اب کی بار اس نے التجا کے اس ’الزام‘ کا جواب کیوں دیا اور……. اور صلاح کار صاحب نے جواب میں یہ کہا کہ حکومت نے اردو کو ہٹانے کا کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے بلکہ محض ایک نوٹیفکیشن جاری کی ہے تاکہ اردو کو نصاب سے ہٹائے جانے کی تجویز پر لوگوں سے رائے لی جائے ……. صلاح کار صاحب نے اسے ایک جمہوری عمل بھی قرار دیا ۔اللہ میاں صلاح کار صاحب کو صحت بدن عطا کرے ممکن ہے کہ ایسا ہی ہو اور یہ سچ میں جمہوری عمل کا حصہ لیکن صاحب جو ایک بات ہماری سمجھ میں نہیں آ رہی ہے کہ اردو کو ہٹانا کیوں ہے …….یہ عمل …….’جمہوری عمل‘ شروع کرنا ہی کیوں ہے کہ اس کی ضرورت کیا ہے ۔کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ اگر لوگوں نے کل کو اس’جمہوری‘ عمل میں حصہ لیا اور اردو کو ہٹانے کے حق میں فیصلہ کیا تو ……. تو نیشنل کانفرنس کی حکومت اردو کو ہٹائے گی ؟صاحب یہ تو کوئی بات نہیں ہوئی اور اس لئے نہیں ہو ئی کہ ……. کہ ایسا کیا ہوا ہے ‘ کون سی ایسی مجبور ی ہے جو حکومت ……. این سی حکومت کو لوگوں کے پاس یہ سوال لے کر جانے پڑا کہ ……. کہ کیا وہ اردو کو ہٹانے کے حق میں ہیں ۔ دوسرے الفاظ میں حکومت خود سے لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ حکومت کو اردو کو ہٹانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے اگر لوگ ایسا چاہتے ہیں ۔ اللہ میاں کی قسم یہ سوال ہی غلط اور ……. اور سوال اس لئے غلط ہے کیونکہ حکومت کی سوچ غلط ہے ……. اردو کے تئیں اس کا رویہ غلط ہے ‘ پالیسی غلط اور شاید نیت بھی ۔کیوں؟ یہ ہم سمجھ نہیں پا رہے ہیں ‘ اگر آپ سمجھ رہے ہیں تو ہمیں بھی سمجھائیے۔ ہے نا؟



