ضلع ادھم پور میں بھی الگ الگ کارروائیوں کے دوران پانچ مبینہ منشیات فروش گرفتار‘ کو ہیروئن بر آمد :پولیس
(ویب ڈیسک )
اننت ناگ؍۲۹؍اپریل
منشیات فروشی اور غیر قانونی تجاوزات کے خلاف ایک بڑی کارروائی میں اننت ناگ پولیس نے سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر سنگم کے مقام پر قومی شاہراہ کے کنارے سرکاری زمین پر تعمیر کی گئی کروڑوں روپے مالیت کی متعدد عمارتوں کو منہدم کر دیا۔
یہ کارروائی ان افراد کے خلاف کی گئی جو مبینہ طور پر این ڈی پی ایس ایکٹ کے مقدمات میں ملوث ہیں۔
پولیس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ پولیس نے سول انتظامیہ کے اشتراک سے ایسی جائیدادوں کے خلاف انہدامی مہم چلائی جو منشیات سے متعلق جرائم میں ملوث افراد نے سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر تعمیر کی تھیں۔
کارروائی کے دوران خسرہ نمبر۳۱۹(من) اراضی سنگم، جو این ایچ کے ساتھ واقع ہے، پر قائم کئی ڈھانچوں کو گرایا گیا۔ بیان کے مطابق یہ ڈھانچے سڑک کنارے ہوٹلوں (ڈھابوں/ریستورانوں) کے طور پر استعمال ہو رہے تھے اور ان کا تعلق این ڈی پی ایس ایکٹ کے مقدمات میں ملوث افراد سے پایا گیا۔
ان میں سے ایک ادارہ ’کشمیر ریسٹورنٹ (ڈھابہ)‘ تھا جو گل محمد میر ولد محمد صادق میر اور بشیر احمد میر ولد گل محمد میر، ساکنان دونی پورہ سنگم کی ملکیت تھا۔ گل محمد میر ایف آئی آر نمبر۲۳۲/۲۰۱۱کے تحت دفعہ۸/۲۰؍این ڈی پی ایس ایکٹ (پولیس اسٹیشن بیجبہارا) میں ملوث ہے، جبکہ بشیر احمد میر ایف آئی آر نمبر۱۹۱/۲۰۲۰(دفعہ۸/۲۰) اور۲۱۳/۲۰۲۴ (دفعات۸/۱۵/۲۹) این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت درج مقدمات میں نامزد ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایک اور ڈھانچہ ’تاج ریسٹورنٹ (ڈھابہ)‘بھی اسی خسرہ نمبر پر تعمیر کیا گیا تھا، جو محمد مقبول میر ولد محمد صادق میر اور ان کے بیٹوں اعجاز احمد اور غلام محی الدین میر، ساکنان دونی پورہ سنگم کی ملکیت تھا۔ یہ افراد ایف آئی آر نمبر۱۸۸/۲۰۲۱کے تحت دفعات۸/۱۵؍اور۲۹این ڈی پی ایس ایکٹ (پولیس اسٹیشن بیجبہارا) میں ملوث ہیں۔
اس کے علاوہ ایک اور ڈھانچہ’میر ریسٹورنٹ‘، جو مذکورہ دونوں اداروں کے درمیان واقع تھا اور ان کے بھائی عما میر کی ملکیت تھا، کو بھی انہدامی کارروائی کے دوران مسمار کیا گیا۔
پولیس کے مطابق یہ تمام ڈھانچے بغیر اجازت سرکاری زمین پر تعمیر کیے گئے تھے۔ انہدامی کارروائی قانونی تقاضوں کے مطابق انجام دی گئی، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اننت ناگ پولیس منشیات فروشی اور غیر قانونی تجاوزات کے خلاف سخت کارروائی کے لیے پرعزم ہے۔
اننت ناگ پولیس نے منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کو دہراتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات فراہم کر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ساتھ دیں۔
ادھرجنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں میں پولیس نے بدھ کے روز ضلع انتظامیہ کے ساتھ مل کر انسدادِ منشیات مہم کو مزید تیز کرتے ہوئے چار دکانیں منہدم کر دیں اور دیگر مبینہ غیر قانونی اثاثوں کو بھی ہٹا دیا، جو مشتبہ منشیات فروشوں سے منسلک بتائے جا رہے ہیں۔
یہ کارروائی حکومت کی جانب سے چلائی جا رہی ’نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان‘ کے تحت عمل میں لائی گئی، جس کا مقصد خطے میں منشیات کے استعمال اور اسمگلنگ پر قابو پانا ہے۔
حکام کے مطابق ایک کارروائی کے دوران واچی کے رہائشی عبد الحمید کی جانب سے سرکاری زمین پر مبینہ طور پر تعمیر کی گئی چار دکانوں کو مسمار کیا گیا۔ عبد الحمید کا نام۲۰۲۲ میں زینہ پورہ پولیس اسٹیشن میں درج ایک منشیات سے متعلق مقدمے میں شامل ہے۔
ایک علیحدہ کارروائی میں حکام نے ملہورا کے رہائشی عنایت لون کی جانب سے سرکاری زمین پر مبینہ طور پر لگائے گئے پاپلر کے درختوں کو کاٹ دیا۔ عنایت لون کا نام بھی زینہ پورہ پولیس اسٹیشن میں۲۰۱۳؍اور۲۰۲۶میں درج منشیات کے مقدمات میں شامل ہے۔
یہ دونوں کارروائیاں مقامی محکمہ مال اور پولیس حکام، بشمول سب ڈویژنل مجسٹریٹ اور سب ڈویژنل پولیس آفیسر زینہ پورہ، کی موجودگی میں انجام دی گئیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ان اثاثوں کے خاتمے کے لیے کیے جا رہے ہیں جو مبینہ طور پر منشیات سے حاصل شدہ آمدنی سے قائم کیے گئے تھے۔
پولیس نے واضح کیا کہ یہ مہم آئندہ بھی جاری رہے گی اور عوام سے اپیل کی کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ سے متعلق معلومات فراہم کر کے اس ناسور کے خاتمے میں تعاون کریں۔
دریں اثنا، ضلع ادھم پور میں بھی الگ الگ کارروائیوں کے دوران پانچ مبینہ منشیات فروشوں کو ہیروئن سمیت گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو منشیات سے بچانے کے لیے آگاہی مہم بھی چلائی جا رہی ہے۔
پہلے معاملے میں رہمبل پولیس اسٹیشن کی ایک ٹیم نے گارنی چوک پر قومی شاہراہ پر ایک ٹاٹا ٹیاگو گاڑی کو اس وقت روکا جب وہ ادھم پور سے جموں کی جانب جا رہی تھی۔ تلاشی کے دوران گاڑی سے ہیروئن برآمد ہوئی، جس کے بعد ڈرائیور ابھیشیک گپتا اور اس کے ساتھی ایشان کھجوریا کو گرفتار کر لیا گیا۔
ایک اور کارروائی میں دھیرج شرما کو جیب علاقے میں معمول کی گشت کے دوران گرفتار کیا گیا اور اس کے قبضے سے ہیروئن برآمد ہوئی۔
اسی طرح راجندر شرما کو راؤن دومیل کے قریب بیلے پل پر اس وقت پکڑا گیا جب وہ ناکہ پارٹی سے فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا، اور اس کے پاس سے بھی ہیروئن برآمد ہوئی۔
ایک علیحدہ واقعے میں ماجالتہ علاقے کے بٹال ناکہ پر ایک آلٹو کار کو روکا گیا، جس کے نتیجے میں عرفان علی کو گرفتار کیا گیا، جس کے قبضے سے ہیروئن برآمد ہوئی۔پولیس نے ان تمام منشیات فروشوں کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت الگ الگ مقدمات درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔










