سرینگر؍۲۹؍ اپریل
پیپلز کانفرنس کے صدر ‘سجاد غنی لون نے بدھ کے روز بی جے پی، نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے گزشتہ سال جموں و کشمیر میں راجیہ سبھا کی چار نشستوں کے انتخابات کے دوران ملی بھگت کرتے ہوئے ’میچ فکسنگ‘ کی۔
جہاں برسرِ اقتدار نیشنل کانفرنس نے تین نشستیں حاصل کیں، وہیں بی جے پی ایک نشست جیتنے میں کامیاب رہی حالانکہ اس کے پاس مطلوبہ تعداد نہیں تھی۔
کم از کم چار غیر بی جے پی ارکان اسمبلی نے بی جے پی کے امیدوار ست شرما کے حق میں ووٹ دیا، جنہوں نے پارٹی کے۲۸؍ارکان اسمبلی کی طاقت کے مقابلے میں۳۲ ووٹ حاصل کیے۔
لون نے خود ووٹنگ سے گریز کیا، جس سے بی جے پی کے امیدوار کو فائدہ پہنچا۔
ہندواڑہ کے ممبر اسمبلی نے یہاں جاری ایک بیان میں کہا’’یہ حقیقت کہ نیشنل کانفرنس نے ایجنٹوں کی تقرری پر زور نہیں دیا اور پی ڈی پی نے سادہ طور پر ایجنٹ مقرر ہی نہیں کیے، اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ میچ فکسنگ کا دائرہ اس سے کہیں زیادہ وسیع تھا‘‘۔
لون ایک آر ٹی آئی جواب کا حوالہ دے رہے تھے جس میں اشارہ کیا گیا تھا کہ پی ڈی پی نے راجیہ سبھا انتخابات کے لیے کوئی چیف ایجنٹ مقرر نہیں کیا تھا۔
ہندواڑہ سے ایم ایل اے لون نے کہا کہ آر ٹی آئی جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم از کم تین جماعتیں ‘بی جے پی، این سی اور پی ڈی پی‘ راجیہ سبھا انتخابات کے دوران آپس میں ملی ہوئی تھیں۔
لون نے مزید کہا’’این سی اور پی ڈی پی کی فعال حمایت کے بغیر بی جے پی راجیہ سبھا کی نشست نہیں جیت سکتی تھی‘‘۔
۲۰۱۵ کے راجیہ سبھا انتخابات کو یاد کرتے ہوئے لون نے کہا کہ اس وقت پیپلز کانفرنس کا کوئی امیدوار نہیں تھا، مگر اس وقت کی حکمران اتحاد نے ان کی پارٹی سے کہا تھا کہ وہ ان کی پسند کا ایک ایجنٹ مقرر کریں۔
لون نے کہا’’مجھے یاد ہے جب میں نے۲۰۱۵کے راجیہ سبھا انتخابات میں ووٹ ڈالا تھا۔ ہماری پارٹی کا کوئی امیدوار نہیں تھا، لیکن حکمران اتحاد (پی ڈی پی-بی جے پی) نے ہم سے درخواست کی تھی کہ ہم ان کی پسند کا ایجنٹ مقرر کریں‘‘۔
ہندواڑہ کے ممبر اسمبلی نے کہا کہ مقرر کیا گیا ایجنٹ کوئی رکن اسمبلی نہیں تھا اور اس نے ان کے ووٹ اور ان کے ساتھی رکن اسمبلی بشیر احمد ڈار کے ووٹ کی تصدیق کی۔
لون نے این سی اور پی ڈی پی دونوں کے طرزِ عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے انتخابی قوانین سے متعلق ان کی لاعلمی کے دعووں پر شدید شکوک کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا’’یہ انتہائی بعید از قیاس لگتا ہے کہ پی ڈی پی یا این سی کو قواعد کا علم نہیں تھا۔‘‘ (ایجنسیز)










