’آپریشن سندور نے واضح کیا کہ ریاستی سرپرستی میں سرحد پار دہشت گردی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے ‘
دنیا کو دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی جیسی’برائیوں‘ کیخلاف متحدہ محاذ قائم کرنے کی ضرورت:وزیر دفاع
سرینگر؍۲۸؍اپریل
’آپریشن سندور نے یہ واضح کر دیا کہ دہشت گردی کے مراکز اب جائز سزا سے محفوظ نہیں رہے‘یہ بات وزیرِ دفاع‘راج ناتھ سنگھ نے شنگھائی تعاون تنظیم(ایس سی او) کے وزرائے دفاع کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جو۲۸؍اپریل کو بشکیک، کرغزستان میں منعقد ہوا۔
سنگھ نے دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی جیسی’برائیوں‘ کے خلاف متحدہ محاذ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ اور کسی بھی سیاسی استثنا کو مسترد کرنا ناگزیر ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ریاست کی سرپرستی میں ہونے والی سرحد پار دہشت گردی، جو کسی ملک کی خودمختاری پر حملہ کرتی ہے، کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور اس معاملے میں دوہرا معیار قابل قبول نہیں۔
سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ ایس او سی کو ان عناصر کے خلاف کارروائی کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے جو دہشت گردوں کی معاونت، پناہ یا انہیں محفوظ ٹھکانے فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا’’دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کے ذریعے ہم علاقائی سلامتی کو ایک چیلنج سے امن اور خوشحالی کی بنیاد میں تبدیل کر سکتے ہیں‘‘۔
انسداد دہشت گردی کو ایس سی او کا بنیادی اصول قرار دیتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ تنظیم نے ہمیشہ ایسے اقدامات اور نظریات کی مذمت کی ہے اور اس مشترکہ جدوجہد میں فعال کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے گزشتہ سال کے تیانجن اعلامیے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دہشت گردی کے خلاف بھارت کے مضبوط اور اجتماعی موقف کا عکاس ہے اور یہ ملک کی زیرو ٹالرنس پالیسی کی گواہی دیتا ہے۔
سنگھ نے مزید کہا’’اجتماعی ساکھ کا اصل امتحان تسلسل میں ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ دہشت گردی کی نہ کوئی قومیت ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی مذہب۔ اقوام کو دہشت گردی کے خلاف مضبوط اور مشترکہ موقف اختیار کرنا ہوگا‘‘۔
وزیرِ دفاع نے ایس سی او کے علاقائی انسداد دہشت گردی ڈھانچے کے کردار کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ بھارت کی سربراہی کے دوران جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ، جس کا موضوع ’انتہا پسندی، علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کی جانب لے جانے والی بنیاد پرستی کا مقابلہ‘ تھا، اس عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر ایس سی او کا کردار نہایت اہم ہو گیا ہے، کیونکہ دنیا کا منظرنامہ منتشر دکھائی دیتا ہے اور ممالک اندرونی معاملات پر زیادہ توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔
سنگھ نے سوال اٹھایا’’کیا ہمیں ایک نئے عالمی نظام کی ضرورت ہے یا ایک زیادہ منظم دنیا کی؟ ہمیں ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں ہر شہری کو عزت اور وقار حاصل ہو۔ ہمیں ایسا نظام درکار ہے جہاں اختلافات تنازعات میں نہ بدلیں اور تنازعات تباہی کا پیش خیمہ نہ بنیں۔ آج کا اصل بحران کسی غیر موجود نظام کا نہیں بلکہ ایک قائم شدہ عالمی اصولی نظام پر سوال اٹھانے کا رجحان ہے۔ ہمیں ایسے عالمی اتفاقِ رائے پر توجہ دینی چاہیے جہاں بقائے باہمی، اشتراک اور ہمدردی کو افراتفری، مسابقت اور تصادم پر ترجیح حاصل ہو‘‘۔
وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ ایس سی اوکی ذمہ داری ہے کہ وہ علاقائی اور عالمی امن و استحکام کو یقینی بنائے۔ان کاکہنا تھا’’ہمیں مکالمے اور سفارتکاری کے راستے پر چلتے رہنا چاہیے نہ کہ مسلسل طاقت کے استعمال کے۔ ہمیں اس دور کو تشدد اور جنگ کا نہیں بلکہ امن اور خوشحالی کا دور بنانا چاہیے۔ میں مہاتما گاندھی کا یہ پیغام یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ‘آنکھ کے بدلے آنکھ پوری دنیا کو اندھا بنا دیتی ہے’ اور ہر اقدام سے پہلے ہمیں سوچنا چاہیے کہ اس کا اثر غریب اور ضرورت مند لوگوں کی زندگی پر کیا ہوگا۔ بطور ذمہ دار افراد، ہمیں بھائی چارے اور ہم آہنگی کے اس جذبے کو برقرار رکھنا ہوگا۔ طاقت کا اصل امتحان اسے کمزوروں کے خلاف استعمال کرنا نہیں بلکہ ان کے مفاد میں استعمال کرنا ہے جو اپنا دفاع نہیں کر سکتے‘‘۔
سنگھ نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ایس سی او امن اور استحکام کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدیم بھارتی فلسفہ ’وسودھیو کٹمبکم‘ (ساری دنیا ایک خاندان ہے) اسی یکجہتی کے تصور کی عکاسی کرتا ہے جو نسل اور مذہب کے تمام اختلافات سے بالاتر ہے۔
راج ناتھ سنگھ نے ایس سی او کے منشور پر تعمیری انداز میں عمل درآمد کے لیے بھارت کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ رکن ممالک کے درمیان زیادہ تعاون، باہمی اعتماد، برابری، احترام اور بہتر تفہیم اس تنظیم کو امن اور امید کا مینار بنا سکتے ہیں۔
اجلاس کے دوران وزیرِ دفاع نے رکن ممالک کے ہمراہ خطے میں سلامتی، دہشت گردی اور بنیاد پرستی سے متعلق امور اور ان کے عالمی امن پر اثرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
ایس سی او کے اراکین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سال۲۰۲۶تنظیم کے قیام کی ۲۵یں سالگرہ کی علامتی اہمیت رکھتا ہے اور بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باعث اس کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔










