ایجنسیز
بارہمولہ؍۲۵؍اپریل
جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم‘سکینہ ایتو نے ہفتہ کے روز خواتین کے خلاف سوشل میڈیا پر نازیبا زبان کے استعمال کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس میں ملوث افراد کی ’’ناکامی‘‘ اور ’’کمزوری‘‘ کو ظاہر کرتا ہے۔
بارہمولہ کے گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوفہ نے کہا کہ وہ بحث و مباحثہ اور تنقید کے لیے تیار ہیں، تاہم فیس بک جیسے پلیٹ فارمز پر گالی گلوچ ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے کہا،’’اگر آپ بحث کرنا چاہتے ہیں تو میرے ساتھ کر سکتے ہیں۔ آپ حکومت کے اراکین اسمبلی سے بات کر سکتے ہیں، ڈائریکٹر سے بھی گفتگو ہو سکتی ہے۔‘‘
موصوفہ نے مزید کہا،’’لیکن آپ کی ناکامی اور کمزوری اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ آپ فیس بک پر کس طرح نازیبا زبان استعمال کرتے ہیں میرے خیال میں یہ آپ کے لیے سب سے بڑی ذلت ہے۔‘‘
وزیر تعلیم نے کہا کہ اسلام میں بہنوں اور بیٹیوں کو اعلیٰ ترین احترام حاصل ہے۔ انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ ایک مخصوص سیاسی جماعت کی سربراہ خود ایک خاتون ہیں، اس کے باوجود اس طرح کی زبان کا استعمال انتہائی افسوسناک ہے۔
ایتو نے کہا،’’اس بہن کو بھی سمجھایا جانا چاہیے کہ فیس بک پر گالی گلوچ درست نہیں۔ ان باتوں کو بند ہونا چاہیے۔ اگر تنقید کرنی ہے تو سامنے آ کر بات کریں، ہم مکالمے کے لیے تیار ہیں۔‘‘










