ایسے واقعات ہمارے امن اور اتحاد کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے:مرمو/ہم دہشت گردی کے سامنے کبھی نہیں جھکے گا: مودی
سرینگر؍۲۲؍ اپریل
پہلگام دہشت گرد حملے کی پہلی برسی کے موقع پر بدھ کے روز صدر دروپدی مرمو، وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزراء اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے سامنے نہیں جھکے گا۔
حکومت نے واضح کیا کہ عوام کو نقصان پہنچانے یا قومی اتحاد کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، اور بھارت دہشت گردی اور اس کی پشت پناہی کرنے والوں کے خلاف اپنی زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رکھے گا۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال جموں و کشمیر کے پہلگام میں پاکستان میں قائم دہشت گرد تنظیم لشکرِ طیبہ کے حملے میں۲۶؍افراد، جن میں زیادہ تر سیاح شامل تھے، ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے کے بعد بھارت نے ’آپریشن سندور‘ کے تحت جوابی کارروائی کرتے ہوئے پاکستان کے زیر انتظام علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں چار روزہ فوجی کشیدگی بھی پیدا ہوئی۔
بھارتی فوج نے بھی دہشت گردی کے خلاف اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ بھارت کے خلاف کسی بھی کارروائی کا ’جواب یقینی‘ہوگا۔
صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے بدھ کے روز دہشت گرد حملے کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارت دہشت گردی کو اس کی ہر شکل میں شکست دینے کے اپنے عزم پر قائم ہے۔
مرمو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا’’اس ہولناک واقعے میں بے گناہ جانوں کا نقصان ہماری اجتماعی یادداشت میں ہمیشہ نقش رہے گا۔ میں سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہوں۔ پورا ملک ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ دہشت گردی کے ایسے واقعات ہمارے امن اور اتحاد کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے‘‘۔
صدر مرمو نے کہا’’ہم دہشت گردی کو اس کی ہر شکل میں شکست دینے کے اپنے عزم پر ثابت قدم ہیں‘‘۔
ادھر حملے کی پہلی برسی کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز کہا کہ بھارت کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے سامنے کبھی نہیں جھکے گا اور دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اپنے پیغام میں کہا:’’گزشتہ سال آج کے دن پہلگام کے دل دہلا دینے والے دہشت گرد حملے میں جاں بحق ہونے والے معصوم افراد کو یاد کر رہے ہیں۔ انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا‘‘۔انہوں نے کہا کہ ان کی ہمدردیاں ان خاندانوں کے ساتھ ہیں جو اس سانحے کے صدمے سے گزر رہے ہیں۔
مودی نے کہا’’بطور قوم ہم غم اور عزم دونوں میں متحد ہیں۔ بھارت کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے سامنے کبھی نہیں جھکے گا۔ دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے‘‘۔
اس دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بدھ کے روز گزشتہ سال پہلگام دہشت گرد حملے میں جاں بحق ہونے والوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت دہشت گردی اور اس کی پشت پناہی کرنے والوں کے خلاف اپنی زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رکھے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم’ ایکس‘پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا’’اپنے لوگوں کو کھونے کا دکھ اور درد آج بھی ہر ہندوستانی کے دل میں موجود ہے‘‘۔
شاہ نے مزید کہا’’دہشت گردی انسانیت کی سب سے بڑی دشمن ہے، جس کے خلاف ہمیں متحد ہو کر لڑنا اور اسے شکست دینا ہوگا۔ بھارت دہشت گردی اور اسے پناہ دینے والوں کے خلاف اپنی زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رکھے گا‘‘۔
دریں اثنا پہلگام دہشت گرد حملے کی پہلی برسی کے موقع پر کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے بدھ کے روز کہا کہ بھارت کی روح ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف متحد اور ناقابلِ شکست ہے۔
انہوں نے اس حملے میں جاں بحق ہونے والے افراد کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور آپریشن سندور کے دوران غیر معمولی عزم اور بہادری کے ساتھ لڑنے والی مسلح افواج کی قربانیوں کو بھی سلام پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا’’۲۰۲۵میں آج کے دن پہلگام دہشت گرد حملے میں جان گنوانے والے۲۶ شہریوں کو میرا خراجِ عقیدت۔ قوم ان معصوم شہریوں کی قربانیوں کو نہ کبھی بھولے گی اور نہ معاف کرے گی۔ ہماری دعائیں اور ہمدردیاں ان خاندانوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھویا‘‘۔
کانگریس پارٹی کے صدر نے مزید کہا’’ہم سرحدوں پر موجود ان شہریوں کو بھی یاد کرتے ہیں جو سرحد پار گولہ باری کے باعث اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان کی قربانیاں قوم کے ضمیر میں ہمیشہ نقش رہیں گی۔ بھارت کی روح ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف مضبوط، پرعزم اور متحد ہے‘‘۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال۲۲؍اپریل کو تین دہشت گردوں نے، جو پاکستان میں قائم لشکرِ طیبہ سے وابستہ تھے،۲۵سیاحوں اور ایک مقامی گھوڑا بان کو بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔
پہلگام حملے کے جواب میں بھارتی مسلح افواج نے گزشتہ سال۷ مئی کو’آپریشن سندور‘ کے تحت پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ٹھوس کارروائیاں کیں۔
اس آپریشن کے دوران نو مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں لشکرِ طیبہ اور جیشِ محمد کے ہیڈکوارٹرز اور تربیتی مراکز شامل تھے، جہاں سے بھارت کے خلاف دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کی جاتی تھی۔
بعد ازاں تینوں دہشت گردوں کو۲۸ جولائی کو سری نگر کے مضافات میں ایک آپریشن، جسے ’آپریشن مہادیو‘ کا نام دیا گیا، کے دوران ہلاک کر دیا گیا۔ یہ دہشت گرد حملے کے بعد داچھی گام،ہارون کے جنگلاتی علاقے میں چھپے ہوئے تھے۔
(ویب ڈیسک)(ایجنسیاں)










