ادھم پور؍۲۲؍ اپریل
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز واضح کیا کہ پہلگام جیسے دہشت گرد حملوں کو روکنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان اس طرح کی کوشش کرے بھی تو اسے کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
بائسرن پہلگام میں گزشتہ سال آج ہی کے دن ہونے والے دہشت گرد حملے کی پہلی برسی کے موقع پر، جس میں۲۵سیاحوں اور ایک مقامی گھوڑا بان کی جان گئی تھی، عمر عبداللہ نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن و امان کے لیے منتخب حکومت، مرکزی حکومت اور سکیورٹی اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یہ دن آج بھی جموں و کشمیر کے لوگوں کے دلوں پر بوجھ ہے کیونکہ وہ ان بے گناہ سیاحوں کو یاد کرتے ہیں جو اس حملے میں مارے گئے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’ہم ان معصوم جانوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جو دہشت گردی کے ایک بے معنی واقعے کا نشانہ بنیں۔ وہ صرف اپنی چھٹیاں گزارنے آئے تھے، مگر بے دردی سے قتل کر دیے گئے۔ آج بھی ہم ان کے غمزدہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں‘‘۔
عمرعبداللہ نے یہ باتیں یہاں گورنمنٹ میڈیکل کالج(جی ایم سی) اسپتال میں حالیہ بس حادثے کے زخمیوں کی عیادت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔
واضح رہے کہ۲۰؍اپریل کو ادھم پور کے رام نگر علاقے میں ایک مسافر بس تقریباً۱۰۰ میٹر گہری کھائی میں جا گری تھی، جس کے نتیجے میں کم از کم۲۱؍افراد ہلاک اور۵۱زخمی ہو گئے تھے۔ بس نے گرنے سے پہلے ایک آٹو رکشہ کو بھی کچل دیا تھا۔
عمر عبداللہ نے کہا’’۲۲؍اپریل۲۰۲۵کو ہم نے عہد کیا تھا کہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں، اور ہم آج بھی اس عہد پر قائم ہیں۔ چاہے منتخب حکومت ہو، مرکزی حکومت یا قانون نافذ کرنے والے ادارے، سب مل کر اس مقصد کو حاصل کریں گے‘‘۔
جب ان سے آپریشن سندور کے بعد پاکستان میں کسی تبدیلی سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس کا بہتر جواب انٹیلی جنس رپورٹس رکھنے والے ہی دے سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا’’میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ اگر پاکستان اس طرح کی نیت رکھتا بھی ہو تو اسے کامیاب نہ ہونے دیا جائے۔ یہی ہماری ترجیح رہے گی‘‘۔
سیاحت پر پہلگام حملے کے اثرات کے بارے میں انہوں نے کہا’’رپورٹ کارڈ دینا آپ کا کام ہے، ہمارا کام کوشش کرنا ہے۔ ہمارا فوکس معمولاتِ زندگی کو برقرار رکھنا ہے‘‘۔انہوں نے اعتراف کیا کہ اس حملے کے کچھ اثرات ضرور پڑے ہیں، لیکن امید ظاہر کی کہ جیسے جیسے سیزن آگے بڑھے گا، حالات بہتر ہوں گے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں بڑی تعداد میں زائرین اور سیاح آئیں گے، چاہے وہ ویشنو دیوی کے درشن کے لیے ہوں، امرناتھ یاترا کے لیے یا عام سیاحت کے لیے۔
عمرعبداللہ نے یاتریوں سے اپیل کی کہ وہ آئندہ امرناتھ یاترا میں بڑی تعداد میں شرکت کریں۔
۵۷ روزہ سالانہ امرناتھ یاترا۳؍جولائی سے شروع ہو کر۲۸؍اگست کو رکشا بندھن کے موقع پر اختتام پذیر ہوگی۔ یاترا روایتی پہلگام راستے اور مختصر بالتل راستے دونوں سے ہوگی، جبکہ پیشگی رجسٹریشن۱۵؍اپریل سے شروع ہو چکی ہے۔
دریں اثنا، مغربی ایشیا میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع پر تبصرہ کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس تنازع کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں، جن میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی چین میں خلل شامل ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’ہم چاہتے ہیں کہ یہ جنگ ختم ہو، یہ نہیں ہونی چاہیے تھی۔ ایران پر حملے کی وجوہات وہی ممالک بہتر بتا سکتے ہیں جو اس میں شامل ہیں، یعنی امریکہ اور اسرائیل، کیونکہ ان کے ارادے ہمارے لیے واضح نہیں ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں ایندھن کی قلت اور سپلائی چین کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں، اور کئی ممالک، خاص طور پر یورپ، شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
عمرعبداللہ نے کہا’’ہمارے ہمسایہ ملک (پاکستان) میں جہازوں کو داخلے کی اجازت تو دی جاتی ہے، لیکن روانگی سے پہلے ایندھن بھرنے کی اجازت نہیں دی جاتی، جو بحران کی شدت کو ظاہر کرتا ہے‘‘۔تاہم، انہوں نے کہا کہ بھارت کی صورتحال دیگر ممالک کے مقابلے میں نسبتاً مستحکم ہے، لیکن خبردار کیا کہ اگر جنگ طویل ہوئی تو عالمی سطح پر مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’ہم امید کرتے ہیں کہ یہ جنگ جلد ختم ہو جائے۔
ایجنسیز
‘‘










